سنن أبي داود حدیث نمبر: 1589
Sunan Abi Dawud 1589
کتاب #9: کتاب: زکوۃ کے احکام و مسائل
6: باب رِضَا الْمُصَدِّقِ
باب: زکاۃ وصول کرنے والے کی رضا مندی کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ. ح وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، وَهَذَا حَدِيثُ أَبِي كَامِلٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ هِلَالٍ الْعَبْسِيُّ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: جَاءَ نَاسٌ، يَعْنِي مِنَ الْأَعْرَابِ، إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: إِنَّ نَاسًا مِنَ الْمُصَدِّقِينَ يَأْتُونَا فَيَظْلِمُونَا، قَالَ: فَقَالَ: " أَرْضُوا مُصَدِّقِيكُمْ" قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَإِنْ ظَلَمُونَا؟ قَالَ: " أَرْضُوا مُصَدِّقِيكُمْ". زَادَ عُثْمَانُ: وَإِنْ ظُلِمْتُمْ. قَالَ أَبُو كَامِلٍ فِي حَدِيثِهِ: قَالَ جَرِيرٌ: مَا صَدَرَ عَنِّي مُصَدِّقٌ بَعْدَ مَا سَمِعْتُ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا وَهُوَ عَنِّي رَاضٍ.
جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کچھ لوگ یعنی کچھ دیہاتی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے: صدقہ و زکاۃ وصول کرنے والوں میں سے بعض لوگ ہمارے پاس آتے ہیں اور ہم پر زیادتی کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے مصدقین کو راضی کرو“، انہوں نے پوچھا: اگرچہ وہ ہم پر ظلم کریں، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے فرمایا: ”تم اپنے مصدقین کو راضی کرو“، عثمان کی روایت میں اتنا زائد ہے ”اگرچہ وہ تم پر ظلم کریں“۔ ابوکامل اپنی حدیث میں کہتے ہیں: جریر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات سنی، اس کے بعد سے میرے پاس جو بھی مصدق آیا، مجھ سے خوش ہو کر ہی واپس گیا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1589]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم (989) ¤ مشكوة المصابيح (1783)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الزکاة 55 (989)، سنن النسائی/الزکاة 14 (2462)، (تحفة الأشراف:3218)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الزکاة 20 (647)، سنن ابن ماجہ/الزکاة 11 (1802)، مسند احمد (4/362)، سنن الدارمی/الزکاة 32 (1712) (صحیح)