سنن أبي داود حدیث نمبر: 1575
Sunan Abi Dawud 1575
کتاب #9: کتاب: زکوۃ کے احکام و مسائل
5: باب فِي زَكَاةِ السَّائِمَةِ
باب: چرنے والے جانوروں کی زکاۃ کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ. ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " فِي كُلِّ سَائِمَةِ إِبِلٍ فِي أَرْبَعِينَ بِنْتُ لَبُونٍ، وَلَا يُفَرَّقُ إِبِلٌ عَنْ حِسَابِهَا مَنْ أَعْطَاهَا مُؤْتَجِرًا، قَالَ ابْنُ الْعَلَاءِ: مُؤْتَجِرًا بِهَا فَلَهُ أَجْرُهَا، وَمَنْ مَنَعَهَا فَإِنَّا آخِذُوهَا، وَشَطْرَ مَالِهِ عَزْمَةً مِنْ عَزَمَاتِ رَبِّنَا عَزَّ وَجَلَّ لَيْسَ لِآلِ مُحَمَّدٍ مِنْهَا شَيْءٌ".
معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چرنے والے اونٹوں میں چالیس (۴۰) میں ایک (۱) بنت لبون ہے، (زکاۃ بچانے کے خیال سے) اونٹ اپنی جگہ سے اِدھر اُدھر نہ کئے جائیں، جو شخص ثواب کی نیت سے زکاۃ دے گا اسے اس کا اجر ملے گا، اور جو اسے روکے گا ہم اس سے اسے وصول کر لیں گے، اور (زکاۃ روکنے کی سزا میں) اس کا آدھا مال لے لیں گے، یہ ہمارے رب عزوجل کے تاکیدی حکموں میں سے ایک تاکیدی حکم ہے، آل محمد کا اس میں کوئی حصہ نہیں“ ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1575]
💡 وضاحت:
۱؎: جرمانے کا یہ حکم ابتدائے اسلام میں تھا، بعد میں منسوخ ہو گیا، اکثر علماء کے قول کے مطابق یہی راجح مسلک ہے۔
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن ¤ أخرجه النسائي (2446 وسنده حسن) وصححه ابن خزيمة (2266 وسنده حسن)
تخریج دارالدعوہ:
سنن النسائی/الزکاة 4 (2446)، 7 (2451)، (تحفة الأشراف:11384)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/2، 4)، سنن الدارمی/الزکاة 36 (1719) (حسن)