سنن أبي داود حدیث نمبر: 1501
Sunan Abi Dawud 1501
کتاب #8: کتاب: وتر کے فروعی احکام و مسائل
24: باب التَّسْبِيحِ بِالْحَصَى
باب: کنکریوں سے تسبیح گننے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ هَانِئِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ حُمَيْضَةَ بِنْتِ يَاسِرٍ، عَنْ يُسَيْرَةَ، أَخْبَرَتْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَمَرَهُنَّ أَنْ يُرَاعِينَ بِالتَّكْبِيرِ وَالتَّقْدِيسِ وَالتَّهْلِيلِ، وَأَنْ يَعْقِدْنَ بِالْأَنَامِلِ فَإِنَّهُنَّ مَسْئُولَاتٌ مُسْتَنْطَقَاتٌ".
یسیرہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ تکبیر، تقدیس اور تہلیل کا اہتمام کیا کریں اور اس بات کا کہ وہ انگلیوں کے پوروں سے گنا کریں اس لیے کہ انگلیوں سے (قیامت کے روز) سوال کیا جائے گا اور وہ بولیں گی ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1501]
💡 وضاحت:
۱؎: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: «يوم تشهد عليهم ألسنتهم وأيديهم وأرجلهم بما كانوا يعملون» (سورۃ النور 24) ” جس دن ان کی زبانیں اور ان کے ہاتھ اور پاؤں ان کے خلاف گواہی دیں گے “، تو جس طرح ہاتھ اور پاؤں وغیرہ اعضاء برے اعمال کی گواہی دیں گے اسی طرح اچھے اعمال کی بھی گواہی دیں گے۔
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن ¤ مشكوة المصابيح (2316) ¤ أخرجه الترمذي (3583 وسنده حسن)
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/الدعوات 121 (3583)، (تحفة الأشراف:18301)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/370، 371) (حسن)