سنن أبي داود حدیث نمبر: 1484
Sunan Abi Dawud 1484
کتاب #8: کتاب: وتر کے فروعی احکام و مسائل
23: باب الدُّعَاءِ
باب: دعا کا بیان۔
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " يُسْتَجَابُ لِأَحَدِكُمْ مَا لَمْ يَعْجَلْ، فَيَقُولُ: قَدْ دَعَوْتُ فَلَمْ يُسْتَجَبْ لِي".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے ہر ایک کی دعا قبول کی جاتی ہے جب تک وہ جلد بازی سے کام نہیں لیتا اور یہ کہنے نہیں لگتا کہ میں نے تو دعا مانگی لیکن میری دعا قبول ہی نہیں ہوئی ۱؎“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1484]
💡 وضاحت:
۱؎: دعا میں جلد بازی بے ادبی ہے، اور اس کا نتیجہ محرومی ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري (6340) صحيح مسلم (2735)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الدعوات 22 (6340)، صحیح مسلم/الذکر والدعاء 25 (2735)، سنن الترمذی/الدعوات 12 (3387)، سنن ابن ماجہ/الدعاء 8 (3853)، (تحفة الأشراف:12930)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/القرآن 8 (29)، مسند احمد (2/487، 396) (صحیح)