سنن أبي داود حدیث نمبر: 1469
Sunan Abi Dawud 1469
کتاب #8: کتاب: وتر کے فروعی احکام و مسائل
20: باب اسْتِحْبَابِ التَّرْتِيلِ فِي الْقِرَاءَةِ
باب: قرآت میں ترتیل کے مستحب ہونے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَيَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ مَوْهَبٍ الرَّمْلِيُّ بِمَعْنَاهُ، أَنَّ اللَّيْثَ حَدَّثَهُمْ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَهِيكٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، وَقَالَ يَزِيدُ: عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، وَقَالَ قُتَيْبَةُ: هُوَ فِي كِتَابِي عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يَتَغَنَّ بِالْقُرْآنِ".
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص قرآن خوش الحانی سے نہ پڑھے، وہ ہم میں سے نہیں ۱؎“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1469]
💡 وضاحت:
۱؎: امام خطابی نے اس کے تین معانی بیان کئے ہیں: ایک یہی ترتیل اور حسن آواز، دوسرے: قرآن کے ذریعہ دیگر کتب سے استغناء (دیکھئے نمبر: ۱۴۷۲)، تیسرے: عربوں میں رائج سواری پر حدی خوانی کے بدلے قرآن کی تلاوت۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح ¤ أخرجه الحميدي (76 وسنده حسن، 77) وانظر الحديث الآتي (1470)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف:3905، 18690)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/172، 175، 179)، سنن الدارمی/فضائل القرآن 34 (3531) (صحیح)