سنن أبي داود حدیث نمبر: 1462
Sunan Abi Dawud 1462
کتاب #8: کتاب: وتر کے فروعی احکام و مسائل
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ الْقَاسِمِ مَوْلَى مُعَاوِيَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: كُنْتُ أَقُودُ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاقَتَهُ فِي السَّفَرِ، فَقَالَ لِي: " يَا عُقْبَةُ، أَلَا أُعَلِّمُكَ خَيْرَ سُورَتَيْنِ قُرِئَتَا؟" فَعَلَّمَنِي: قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ وَ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ قَالَ: فَلَمْ يَرَنِي سُرِرْتُ بِهِمَا جِدًّا، فَلَمَّا نَزَلَ لِصَلَاةِ الصُّبْحِ صَلَّى بِهِمَا صَلَاةَ الصُّبْحِ لِلنَّاسِ، فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الصَّلَاةِ الْتَفَتَ إِلَيَّ، فَقَالَ: " يَا عُقْبَةُ كَيْفَ رَأَيْتَ؟".
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹ کی نکیل پکڑ کر چل رہا تھا، آپ نے فرمایا: ”عقبہ! کیا میں تمہیں دو بہترین سورتیں نہ سکھاؤں؟“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے «قل أعوذ برب الفلق» اور «قل أعوذ برب الناس» سکھائیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ان دونوں (کے سیکھنے) سے بہت زیادہ خوش ہوتے نہ پایا، چنانچہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کے لیے (سواری سے) اترے تو لوگوں کو نماز پڑھائی اور یہی دونوں سورتیں پڑھیں، پھر جب نماز سے فارغ ہوئے تو میری طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ”عقبہ! تم نے انہیں کیا سمجھا ہے ۱؎“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1462]
💡 وضاحت:
۱؎: انہیں معمولی اور حقیر سمجھ رہے ہو، حالانکہ یہ بڑے کام کی ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بلاؤں اور جادو سے نجات پانے کے لئے یہ سورتیں پڑھتے تھے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن ¤ مشكوة المصابيح (848) ¤ أخرجه النسائي (5438 وسنده حسن)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابوداود، (تحفة الأشراف:9946)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المسافرین 46 (814)، سنن الترمذی/فضائل القرآن 12 (2902)، قیام اللیل (1337)، ن الکبری/الاستعاذة (7848)، مسند احمد (4/144، 149، 151، 153)، سنن الدارمی/فضائل القرآن 24 (3482) (صحیح)