📖 سنن أبي داود • فہرست کتب (Book Index) ↗

سنن أبي داود

Sunan Abi Dawud (سُنَنُ أَبِي دَاوُدَ)
📁 کتاب: طہارت کے مسائل (كِتَاب الطَّهَارَةِ) 🏷️ باب: باب: ناک میں پانی ڈال کر جھاڑنے کا بیان۔
عربی:
اردو:
سنن أبي داود حدیث نمبر: 142 Sunan Abi Dawud 142
کتاب #1: کتاب: طہارت کے مسائل
55: باب فِي الاِسْتِنْثَارِ
باب: ناک میں پانی ڈال کر جھاڑنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، فِي آخَرِينَ، قَالُوا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ لَقِيطِ بْنِ صَبْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ لَقِيطِ بْنِ صَبْرَةَ، قَالَ: كُنْتُ وَافِدَ بَنِي الْمُنْتَفِقِ أَوْ فِي وَفْدِ بَنِي الْمُنْتَفِقِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ نُصَادِفْهُ فِي مَنْزِلِهِ وَصَادَفْنَا عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَ: فَأَمَرَتْ لَنَا بِخَزِيرَةٍ فَصُنِعَتْ لَنَا، قَالَ: وَأُتِينَا بِقِنَاعٍ وَلَمْ يَقُلْ قُتَيْبَةُ الْقِنَاعَ، وَالْقِنَاعُ الطَّبَقُ فِيهِ تَمْرٌ، ثُمَّ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " هَلْ أَصَبْتُمْ شَيْئًا أَوْ أُمِرَ لَكُمْ بِشَيْءٍ؟ قَالَ: قُلْنَا: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: فَبَيْنَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جُلُوسٌ، إِذْ دَفَعَ الرَّاعِي غَنَمَهُ إِلَى الْمُرَاحِ وَمَعَهُ سَخْلَةٌ تَيْعَرُ، فَقَالَ: مَا وَلَّدْتَ يَا فُلَانُ؟ قَالَ: بَهْمَةً، قَالَ: فَاذْبَحْ لَنَا مَكَانَهَا شَاةً، ثُمَّ قَالَ: لَا تَحْسِبَنَّ، وَلَمْ يَقُلْ لَا تَحْسَبَنَّ أَنَّا مِنْ أَجْلِكَ ذَبَحْنَاهَا لَنَا غَنَمٌ مِائَةٌ لَا نُرِيدُ أَنْ تَزِيدَ، فَإِذَا وَلَّدَ الرَّاعِي بَهْمَةً ذَبَحْنَا مَكَانَهَا شَاةً، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي امْرَأَةً وَإِنَّ فِي لِسَانِهَا شَيْئًا يَعْنِي الْبَذَاءَ، قَالَ: فَطَلِّقْهَا إِذًا، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لَهَا صُحْبَةً وَلِي مِنْهَا وَلَدٌ، قَالَ: فَمُرْهَا يَقُولُ: عِظْهَا، فَإِنْ يَكُ فِيهَا خَيْرٌ فَسَتَفْعَلْ، وَلَا تَضْرِبْ ظَعِينَتَكَ كَضَرْبِكَ أُمَيَّتَكَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخْبِرْنِي عَنِ الْوُضُوءِ، قَالَ: أَسْبِغْ الْوُضُوءَ وَخَلِّلْ بَيْنَ الْأَصَابِعِ وَبَالِغْ فِي الِاسْتِنْشَاقِ، إِلَّا أَنْ تَكُونَ صَائِمًا".
لقیط بن صبرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں بنی منتفق کے وفد کا سردار بن کر یا بنی منتفق کے وفد میں شریک ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا، جب ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ گھر میں نہیں ملے، ہمیں صرف ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا ملیں، انہوں نے ہمارے لیے خزیرہ ۱؎ تیار کرنے کا حکم کیا، وہ تیار کیا گیا، ہمارے سامنے تھالی لائی گئی۔ (قتیبہ نے اپنی روایت میں «قناع» کا لفظ نہیں کہا ہے، «قناع» کھجور کی لکڑی کی اس تھالی و طبق کو کہتے ہیں جس میں کھجور رکھی جاتی ہے)۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور پوچھا: تم لوگوں نے کچھ کھایا؟ یا تمہارے کھانے کے لیے کوئی حکم دیا گیا؟، ہم نے جواب دیا: ہاں، اے اللہ کے رسول! ہم لوگ آپ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ یکایک چرواہا اپنی بکریاں باڑے کی طرف لے کر چلا، اس کے ساتھ ایک بکری کا بچہ تھا جو ممیا رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اس سے) پوچھا: اے فلاں! کیا پیدا ہوا (نر یا مادہ)؟، اس نے جواب دیا: مادہ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو اس کے جگہ پر ہمارے لیے ایک بکری ذبح کرو۔ پھر (لقیط سے) فرمایا: یہ نہ سمجھنا کہ ہم نے اسے تمہارے لیے ذبح کیا ہے، بلکہ (بات یہ ہے کہ) ہمارے پاس سو بکریاں ہیں جسے ہم بڑھانا نہیں چاہتے، اس لیے جب کوئی بچہ پیدا ہوتا ہے تو ہم اس کی جگہ ایک بکری ذبح کر ڈالتے ہیں۔ لقیط کہتے ہیں: میں نے کہا: اللہ کے رسول! میری ایک بیوی ہے جو زبان دراز ہے (میں کیا کروں)؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تب تو تم اسے طلاق دے دو۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ایک مدت تک میرا اس کا ساتھ رہا، اس سے میری اولاد بھی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو اسے تم نصیحت کرو، اگر اس میں بھلائی ہے تو تمہاری اطاعت کرے گی، اور تم اپنی عورت کو اس طرح نہ مارو جس طرح اپنی لونڈی کو مارتے ہو۔ پھر میں نے کہا: اللہ کے رسول! مجھے وضو کے بارے میں بتائیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وضو مکمل کیا کرو، انگلیوں میں خلال کرو، اور ناک میں پانی اچھی طرح پہنچاؤ الا یہ کہ تم صائم ہو ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 142]
💡 وضاحت:
۱؎: خزیرہ ایک قسم کا کھانا ہے، اس کے بنانے کا طریقہ یہ ہے کہ گوشت کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کو کافی مقدار میں پانی میں ابالا جاتا ہے جب گوشت پک جاتا ہے تو اس میں آٹا ڈال کر اسے مزید پکایا جاتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن ¤ مشكوة المصابيح (405، 3260) ¤ اخرجه الترمذي (788 وسنده حسن) والنسائي (114 وسنده حسن) وابن ماجه (448 وسنده حسن) وصححه ابن خزيمه (150، 168 وسندھما حسن) وانظر مقالات (2/ 202) والحديث الآتي (3973)
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الطھارة 30 (38)، الصوصحیح مسلم/ 69 (788)، سنن النسائی/الطھارة 71 (87)، 92 (114)، سنن ابن ماجہ/ 44 (407)، 54 (448)، (تحفة الأشراف: 11172)، ویأتی عند المؤلف برقم (2366) و (3973)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/33)، سنن الدارمی/الطھارة 34 (732) (صحیح)
سنن أبي داود • حدیث #142
140 141 142 143 144

📖 اسی باب کی مزید احادیث (Related Hadiths)

#140 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَ...
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب تم میں سے کوئی وضو کر...
#141 حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ قَارِظٍ...
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ناک میں پانی ڈا...
#143 حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، حَدَّ...
بنی منتفق کے وفد میں شریک لقیط بن صبرہ کہتے ہیں کہ وہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے، پھ...
#144 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ،...
اس طریق سے بھی ابن جریج سے یہی حدیث مروی ہے، جس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ