سنن أبي داود حدیث نمبر: 1419
Sunan Abi Dawud 1419
کتاب #8: کتاب: وتر کے فروعی احکام و مسائل
2: باب فِيمَنْ لَمْ يُوتِرْ
باب: جو شخص وتر نہ پڑھے وہ کیسا ہے؟
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الطَّالْقَانِيُّ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْعَتَكِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " الْوِتْرُ حَقٌّ فَمَنْ لَمْ يُوتِرْ فَلَيْسَ مِنَّا، الْوِتْرُ حَقٌّ فَمَنْ لَمْ يُوتِرْ فَلَيْسَ مِنَّا، الْوِتْرُ حَقٌّ فَمَنْ لَمْ يُوتِرْ فَلَيْسَ مِنَّا".
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”وتر حق ہے ۱؎ جو اسے نہ پڑھے وہ ہم میں سے نہیں، وتر حق ہے، جو اسے نہ پڑھے ہم میں سے نہیں، وتر حق ہے، جو اسے نہ پڑھے ہم سے نہیں“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1419]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ حدیث ضعیف ہے، اگر صحیح ہوتی تو اس کا مطلب یہ ہوتا کہ وتر کا پڑھنا ثابت ہے، اس کی تائید اس حدیث سے ہوتی ہے جس کی تخریج ابن المنذر نے ان الفاظ میں کی ہے «الوتر حق وليس بواجب» یعنی وتر ایک ثابت شدہ امر ہے لیکن واجب نہیں۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ أبو المنيب حسن الحديث في غير ما أنكر عليه ¤ انظر تحفة الأقوياء في تحقيق كتاب الضعفاء للبخاري (215) وھذا الحديث مما أنكر عليه ¤ انظر ميزان الإعتدال (11/3) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 57
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف:1986)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/357) (ضعیف) (اس کے راوی عبیداللہ العتکی ضعیف ہیں)