سنن أبي داود حدیث نمبر: 1413
Sunan Abi Dawud 1413
کتاب #7: کتاب: سجدہ تلاوت کے احکام و مسائل
6: باب فِي الرَّجُلِ يَسْمَعُ السَّجْدَةَ وَهُوَ رَاكِبٌ وَفِي غَيْرِ الصَّلاَةِ
باب: سوار یا وہ شخص جو نماز میں نہ ہو سجدے کی آیت سنے تو کیا کرے؟
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْفُرَاتِ أَبُو مَسْعُودٍ الرَّازِيُّ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ عَلَيْنَا الْقُرْآنَ، فَإِذَا مَرَّ بِالسَّجْدَةِ كَبَّرَ وَسَجَدَ وَسَجَدْنَا". قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: وَكَانَ الثَّوْرِيُّ يُعْجِبُهُ هَذَا الْحَدِيثُ. قَالَ أَبُو دَاوُد: يُعْجِبُهُ لِأَنَّهُ كَبَّرَ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم کو قرآن سناتے، جب کسی سجدے کی آیت سے گزرتے تو ”الله أكبر“ کہتے اور سجدہ کرتے اور آپ کے ساتھ ہم بھی سجدہ کرتے۔ عبدالرزاق کہتے ہیں: یہ حدیث ثوری کو اچھی لگتی تھی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: انہیں یہ اس لیے پسند تھی کہ اس میں ”الله أكبر“ کا ذکر ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1413]
قال الشيخ الألباني:
منكر والمحفوظ دونه
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن ¤ مشكوة المصابيح (1032) ¤ عبد الله العمري حسن الحديث عن نافع، ضعيف الحديث عن غيره
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف:7726) (منکر) (سجدہ کے لئے تکبیر کا تذکرہ منکر ہے، نافع سے روایت کرنے والے عبداللہ العمری ضعیف ہیں، بغیر تکبیر کے تذکرے کے یہ حدیث ثابت ہے جیسا کہ پچھلی حدیث میں ہے، البتہ دوسروے دلائل سے تکبیر ثابت ہے)