سنن أبي داود حدیث نمبر: 1408
Sunan Abi Dawud 1408
کتاب #7: کتاب: سجدہ تلاوت کے احکام و مسائل
4: باب السُّجُودِ فِي { إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ } وَ { اقْرَأْ }
باب: سورۃ ”انشقاق“ اور سورۃ ”علق“ میں سجدے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، حَدَّثَنَا بَكْرٌ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ الْعَتَمَةَ، فَقَرَأَ: إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ، فَسَجَدَ، فَقُلْتُ: مَا هَذِهِ السَّجْدَةُ؟ قَالَ: " سَجَدْتُ بِهَا خَلْفَ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَا أَزَالُ أَسْجُدُ بِهَا حَتَّى أَلْقَاهُ" .
ابورافع نفیع الصائغ بصریٰ کہتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ عشاء پڑھی، آپ نے «إذا السماء انشقت» کی تلاوت کی اور سجدہ کیا، میں نے کہا: یہ سجدہ کیسا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: میں نے یہ سجدہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے (نماز پڑھتے ہوئے) کیا ہے اور میں برابر اسے کرتا رہوں گا یہاں تک کہ آپ سے جا ملوں۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1408]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري (1078) صحيح مسلم (578)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الأذان 100(766)، صحیح مسلم/المساجد 20 (578)، سنن النسائی/الافتتاح 53 (969)، (تحفة الأشراف: 14649)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/229، 256، 266) (صحیح)