سنن أبي داود حدیث نمبر: 1401
Sunan Abi Dawud 1401
کتاب #7: کتاب: سجدہ تلاوت کے احکام و مسائل
1: باب تَفْرِيعِ أَبْوَابِ السُّجُودِ وَكَمْ سَجْدَةٍ فِي الْقُرْآنِ
باب: سجدہ تلاوت کا بیان اور یہ کہ قرآن کریم میں کتنے سجدے ہیں؟
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ بْنِ الْبَرْقِيِّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنَا نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ سَعِيدٍ الْعُتَقِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُنَيْنٍ مِنْ بَنِي عَبْدِ كُلَالٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَقْرَأَهُ خَمْسَ عَشْرَةَ سَجْدَةً فِي الْقُرْآنِ، مِنْهَا ثَلَاثٌ فِي الْمُفَصَّلِ، وَفِي سُورَةِ الْحَجِّ سَجْدَتَانِ". قَالَ أَبُو دَاوُد: رُوِيَ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " إِحْدَى عَشْرَةَ سَجْدَةً" وَإِسْنَادُهُ وَاهٍ.
عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو قرآن مجید میں (۱۵) سجدے ۱؎ پڑھائے: ان میں سے تین مفصل میں ۲؎ اور دو سورۃ الحج میں ۳؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے گیارہ سجدے نقل کئے ہیں، لیکن اس کی سند کمزور ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1401]
💡 وضاحت:
۱؎: امام احمد اور جمہور اہل حدیث کے یہاں قرآن مجید میں پندرہ سجدے تلاوت کے ہیں، امام مالک کے نزدیک صرف گیارہ سجدے ہیں، مفصل اور سورہ ص میں ان کے نزدیک سجدہ نہیں ہے، امام شافعی کے نزدیک کل چودہ سجدے ہیں، سورہ ص میں ان کے نزدیک بھی سجدہ نہیں، اور امام ابوحنیفہ کے نزدیک بھی کل چودہ سجدے ہیں، وہ سورہ حج میں ایک ہی سجدہ مانتے ہیں، سجدہ تلاوت جمہور کے نزدیک سنت ہے لیکن امام ابوحنیفہ اسے واجب کہتے ہیں، ائمہ اربعہ اور اکثر علماء کے نزدیک اس میں وضو شرط ہے، امام ابن تیمیہ کے نزدیک شرط نہیں ہے۔
۲؎: سورہ نجم، سورہ انشقت اور اقرأ میں۔
۳؎: یہ کل پانچ سجدے ہوئے اور دس ان کے علاوہ باقی سورتوں: اعراف، رعد، نحل، بنی اسرائیل، مریم، فرقان، نمل، الم تنزیل السجدہ، ص اور فصلت میں، اس طرح کل پندرہ سجدے ہوئے۔
۲؎: سورہ نجم، سورہ انشقت اور اقرأ میں۔
۳؎: یہ کل پانچ سجدے ہوئے اور دس ان کے علاوہ باقی سورتوں: اعراف، رعد، نحل، بنی اسرائیل، مریم، فرقان، نمل، الم تنزیل السجدہ، ص اور فصلت میں، اس طرح کل پندرہ سجدے ہوئے۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ ابن ماجه (1057) ¤ الحارث بن سعيد مجهول الحال،جھله الجمهور ¤ و حديث أبي الدرداء رواه الترمذي (568،569) وسنده ضعيف ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 56
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 71 (1057)، (تحفة الأشراف:10735) (ضعیف) (اس کے راوی حارث لین الحدیث، اور عبد اللہ مجہول ہیں)