سنن أبي داود حدیث نمبر: 1379
Sunan Abi Dawud 1379
کتاب #6: کتاب: ماہ رمضان المبارک کے احکام و مسائل
2: باب فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ
باب: شب قدر کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ السُّلَمِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ الزُّهْرِيِّ، عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُنَيْسٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنْتُ فِي مَجْلِسِ بَنِي سَلَمَةَ، وَأَنَا أَصْغَرُهُمْ، فَقَالُوا: مَنْ يَسْأَلُ لَنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ، وَذَلِكَ صَبِيحَةَ إِحْدَى وَعِشْرِينَ مِنْ رَمَضَانَ، فَخَرَجْتُ، فَوَافَيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْمَغْرِبِ، ثُمَّ قُمْتُ بِبَابِ بَيْتِهِ، فَمَرَّ بِي، فَقَالَ: " ادْخُلْ"، فَدَخَلْتُ فَأُتِيَ بِعَشَائِهِ فَرَآنِي أَكُفُّ عَنْهُ مِنْ قِلَّتِهِ، فَلَمَّا فَرَغَ، قَالَ: " نَاوِلْنِي نَعْلِي"، فَقَامَ وَقُمْتُ مَعَهُ، فَقَالَ: " كَأَنَّ لَكَ حَاجَةً" قُلْتُ: أَجَلْ، أَرْسَلَنِي إِلَيْكَ رَهْطٌ مِنْ بَنِي سَلَمَةَ يَسْأَلُونَكَ عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ، فَقَالَ: " كَمْ اللَّيْلَةُ؟ فَقُلْتُ: اثْنَتَانِ وَعِشْرُونَ، قَالَ: " هِيَ اللَّيْلَةُ"، ثُمَّ رَجَعَ، فَقَالَ: " أَوِ الْقَابِلَةُ، يُرِيدُ لَيْلَةَ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ".
عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں بنی سلمہ کی مجلس میں تھا، اور ان میں سب سے چھوٹا تھا، لوگوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہمارے لیے شب قدر کے بارے میں کون پوچھے گا؟ یہ رمضان کی اکیسویں صبح کی بات ہے، تو میں نکلا اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مغرب پڑھی، پھر آپ کے گھر کے دروازے پر کھڑا ہو گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے اور فرمایا: ”اندر آ جاؤ“، میں اندر داخل ہو گیا، آپ کا شام کا کھانا آیا تو آپ نے مجھے دیکھا کہ میں کھانا تھوڑا ہونے کی وجہ سے کم کم کھا رہا ہوں، جب کھانے سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ”مجھے میرا جوتا دو“، پھر آپ کھڑے ہوئے اور میں بھی آپ کے ساتھ کھڑا ہوا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لگتا ہے تمہیں مجھ سے کوئی کام ہے؟“، میں نے کہا: جی ہاں، مجھے قبیلہ بنی سلمہ کے کچھ لوگوں نے آپ کے پاس بھیجا ہے، وہ شب قدر کے سلسلے میں پوچھ رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”آج کون سی رات ہے؟“، میں نے کہا: بائیسویں رات، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہی شب قدر ہے“، پھر لوٹے اور فرمایا: ”یا کل کی رات ہو گی“ آپ کی مراد تیئسویں رات تھی۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1379]
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ نسائي (في الكبريٰ:3401) ¤ ابن شھاب الزھري عنعن (تقدم: 145) ¤ و حديث النسائي في الكبري (3402 وسنده حسن) يغني عنه و فيه: بل القابلة ثلاث و عشرين ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 55
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف:5143)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الکبری/ الاعتکاف (3401، 3402)، مسند احمد (3/495) (حسن صحیح)