سنن أبي داود حدیث نمبر: 1352
Sunan Abi Dawud 1352
کتاب #--: ابواب: قیام الیل کے احکام و مسائل
27: باب فِي صَلاَةِ اللَّيْلِ
باب: تہجد کی رکعتوں کا بیان۔
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ، وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَدَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ، فَقُلْتُ: أَخْبِرِينِي عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ صَلَاةَ الْعِشَاءِ، ثُمَّ يَأْوِي إِلَى فِرَاشِهِ فَيَنَامُ، فَإِذَا كَانَ جَوْفُ اللَّيْلِ قَامَ إِلَى حَاجَتِهِ وَإِلَى طَهُورِهِ فَتَوَضَّأَ، ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَصَلَّى ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ، يُخَيَّلُ إِلَيَّ أَنَّهُ يُسَوِّي بَيْنَهُنَّ فِي الْقِرَاءَةِ وَالرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ، ثُمَّ يُوتِرُ بِرَكْعَةٍ، ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ، ثُمَّ يَضَعُ جَنْبَهُ، فَرُبَّمَا جَاءَ بِلَالٌ فَآذَنَهُ بِالصَّلَاةِ، ثُمَّ يُغْفِي، وَرُبَّمَا شَكَكْتُ أَغْفَى أَوْ لَا، حَتَّى يُؤْذِنَهُ بِالصَّلَاةِ فَكَانَتْ تِلْكَ صَلَاتُهُ حَتَّى أَسَنَّ لَحُمَ"، فَذَكَرَتْ مِنْ لَحْمِهِ مَا شَاءَ اللَّهُ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ.
سعد بن ہشام کہتے ہیں کہ میں مدینے آیا اور ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا اور کہا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز (تہجد) کے بارے میں بتائیے، وہ بولیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو عشاء پڑھاتے، پھر بستر پر آ کر سو جاتے، جب آدھی رات ہو جاتی تو قضائے حاجت اور وضو کے لیے اٹھتے اور وضو کر کے مصلیٰ پر تشریف لے جاتے اور آٹھ رکعتیں پڑھتے، میرے خیال میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر رکعت میں قرآت، رکوع اور سجدہ برابر برابر کرتے، پھر ایک رکعت پڑھ کر اسے وتر بنا دیتے، پھر دو رکعتیں بیٹھ کر پڑھتے پھر اپنا پہلو (زمین پر) رکھتے، کبھی ایسا ہوتا کہ بلال رضی اللہ عنہ آ کر نماز کی خبر دیتے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہلکی نیند سوتے، بسا اوقات میں شبہ میں پڑ جاتی کہ آپ سو رہے ہیں یا جاگ رہے ہیں یہاں تک کہ وہ آپ کو نماز کی خبر دیتے، یہی آپ کی نماز (تہجد) ہے یہاں تک کہ آپ بوڑھے اور موٹے ہو گئے، پھر انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گوشت بڑھ جانے کا حال جو اللہ نے چاہا ذکر کیا پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1352]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ نسائي (1652) ¤ الحسن البصري مدلس وعنعن ¤ وحديث البيهقي (2/ 501502) يغني عن حديثه ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 55 ¤
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 16096)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/ 91، 97، 168، 216، 227، 235) (صحیح)