سنن أبي داود حدیث نمبر: 1321
Sunan Abi Dawud 1321
کتاب #--: ابواب: قیام الیل کے احکام و مسائل
23: باب وَقْتِ قِيَامِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِنَ اللَّيْلِ
باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے تہجد پڑھنے کے وقت کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، فِي هَذِهِ الْآيَةِ: تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنْفِقُونَ سورة السجدة آية 16، قَالَ: كَانُوا يَتَيَقَّظُونَ مَا بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ يُصَلُّونَ، وَكَانَ الْحَسَنُ، يَقُولُ: قِيَامُ اللَّيْلِ.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں یہ جو اللہ تعالیٰ کا قول ہے «تتجا فى جنوبهم عن المضاجع يدعون ربهم خوفا وطمعا ومما رزقناهم ينفقون» ”ان کے پہلو بچھونوں سے جدا رہتے ہیں، اپنے رب کو ڈر اور امید کے ساتھ پکارتے ہیں، اور جو کچھ ہم نے انہیں عطا کیا اس میں سے خرچ کرتے ہیں“ (سورۃ السجدۃ: ۱۶) اس سے مراد یہ ہے کہ وہ لوگ مغرب اور عشاء کے درمیان جاگتے اور نماز پڑھتے ہیں۔ حسن کہتے ہیں: اس سے مراد تہجد پڑھنا ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1321]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ قتادة وسعيد بن أبي عروبة مدلسان (تقدما: 29،33) وعنعنا ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 55
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابوداود، (تحفة الأشراف: 1212)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/تفسیر القرآن 33 (3196) (صحیح)