📖 سنن أبي داود • فہرست کتب (Book Index) ↗

سنن أبي داود

Sunan Abi Dawud (سُنَنُ أَبِي دَاوُدَ)
📁 کتاب: نماز سفر کے احکام و مسائل (كتاب صلاة السفر) 🏷️ باب: باب: ان لوگوں کی دلیل جو کہتے ہیں کہ امام ایک رکعت پڑھ کر کھڑا رہے۔
عربی:
اردو:
سنن أبي داود حدیث نمبر: 1239 Sunan Abi Dawud 1239
کتاب #4: کتاب: نماز سفر کے احکام و مسائل
14: باب مَنْ قَالَ إِذَا صَلَّى رَكْعَةً وَثَبَتَ قَائِمًا أَتَمُّوا لأَنْفُسِهِمْ رَكْعَةً ثُمَّ سَلَّمُوا ثُمَّ انْصَرَفُوا فَكَانُوا وِجَاهَ الْعَدُوِّ وَاخْتُلِفَ فِي السَّلاَمِ
باب: ان لوگوں کی دلیل جو کہتے ہیں کہ امام ایک رکعت پڑھ کر کھڑا رہے۔
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ خَوَّاتٍ الْأَنْصَارِيِّ، أَنَّ سَهْلَ بْنَ أَبِي حَثْمَةَ الْأَنْصَارِيّ حَدَّثَهُ، أَنَّ صَلَاةَ الْخَوْفِ: أَنْ يَقُومَ الْإِمَامُ، وَطَائِفَةٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، وَطَائِفَةٌ مُوَاجِهَةُ الْعَدُوِّ، فَيَرْكَعُ الْإِمَامُ رَكْعَةً وَيَسْجُدُ بِالَّذِينَ مَعَهُ، ثُمَّ يَقُومُ، فَإِذَا اسْتَوَى قَائِمًا ثَبَتَ قَائِمًا وَأَتَمُّوا لِأَنْفُسِهِمُ الرَّكْعَةَ الْبَاقِيَةَ، ثُمَّ سَلَّمُوا وَانْصَرَفُوا وَالْإِمَامُ قَائِمٌ، فَكَانُوا وِجَاهَ الْعَدُوِّ، ثُمَّ يُقْبِلُ الْآخَرُونَ الَّذِينَ لَمْ يُصَلُّوا فَيُكَبِّرُونَ وَرَاءَ الْإِمَامِ فَيَرْكَعُ بِهِمْ وَيَسْجُدُ بِهِمْ، ثُمَّ يُسَلِّمُ فَيَقُومُونَ فَيَرْكَعُونَ لِأَنْفُسِهِمُ الرَّكْعَةَ الْبَاقِيَةَ، ثُمَّ يُسَلِّمُونَ. قَالَ أَبُو دَاوُد وَأَمَّا: رِوَايَةُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ الْقَاسِمِ، نَحْوَ رِوَايَةِ يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ، إِلَّا أَنَّهُ خَالَفَهُ فِي السَّلَامِ، وَرِوَايَةُ عُبَيْدِ اللَّهِ، نَحْوَ رِوَايَةِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: وَيَثْبُتُ قَائِمًا.
صالح بن خوات انصاری کہتے ہیں کہ سہل بن ابی حثمہ انصاری رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کیا ہے کہ نماز خوف اس طرح ہو گی کہ امام (نماز کے لیے) کھڑا ہو گا اور اس کے ساتھیوں کی ایک جماعت اس کے ساتھ ہو گی اور دوسری جماعت دشمن کے سامنے کھڑی ہو گی، امام اور جو اس کے ساتھ ہوں گے رکوع اور سجدہ کریں گے پھر امام کھڑا ہو گا، جب پورے طور سے سیدھا کھڑا ہو جائے گا تو یونہی کھڑا رہے گا یہاں تک کہ لوگ اپنی باقی (دوسری) رکعت بھی ادا کر لیں گے، پھر وہ لوگ سلام پھیر کر واپس چلے جائیں گے اور امام کھڑا رہے گا، اب یہ دشمن کے سامنے ہوں گے اور جن لوگوں نے نماز نہیں پڑھی ہے، وہ آئیں گے اور امام کے پیچھے تکبیر (تکبیر تحریمہ) کہیں گے پھر وہ ان کے ساتھ رکوع اور سجدہ کر کے اپنی دوسری رکعت پوری کرے گا پھر سلام پھیر دے گا، اس کے بعد یہ لوگ کھڑے ہو کر اپنی باقی رکعت ادا کریں گے پھر سلام پھیریں گے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: رہی قاسم سے مروی یحییٰ بن سعید کی روایت تو وہ یزید بن رومان کی روایت ہی کی طرح ہے سوائے اس کے کہ انہوں نے سلام میں اختلاف کیا ہے اور عبیداللہ کی روایت یحییٰ بن سعید کی روایت کی طرح ہے اس میں ہے کہ (امام) کھڑا رہے گا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1239]
قال الشيخ الألباني: صحيح خ دون ذكر التسليم في الموضعين وهو موقوف
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (4129) صحيح مسلم (842)
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: (1237)، (تحفة الأشراف: 4645) (صحیح) (یہ حدیث موقوف ہے اور اس سے پہلے والی مرفوع ہے، پہلی میں جو صورت مذکور ہے وہی زیادہ صحیح ہے، یعنی دوسری جماعت کا امام کے ساتھ سلام پھیرنا)
سنن أبي داود • حدیث #1239
1237 1238 1239 1240 1241

📖 اسی باب کی مزید احادیث (Related Hadiths)

#1238 حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ، عَنْ صَالِحِ بْنِ خَوَّاتٍ، عَم...
صالح بن خوات ایک ایسے شخص سے روایت کرتے ہیں جس نے ذات الرقاع کے غزوہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ