📖 سنن أبي داود • فہرست کتب (Book Index) ↗

سنن أبي داود

Sunan Abi Dawud (سُنَنُ أَبِي دَاوُدَ)
📁 کتاب: نماز سفر کے احکام و مسائل (كتاب صلاة السفر) 🏷️ باب: باب: مسافر کو شک ہو کہ نماز کا وقت ہوا یا نہیں پھر وہ نماز پڑھ لے تو یہ جائز ہے۔
عربی:
اردو:
سنن أبي داود حدیث نمبر: 1204 Sunan Abi Dawud 1204
کتاب #4: کتاب: نماز سفر کے احکام و مسائل
4: باب الْمُسَافِرِ يُصَلِّي وَهُوَ يَشُكُّ فِي الْوَقْتِ
باب: مسافر کو شک ہو کہ نماز کا وقت ہوا یا نہیں پھر وہ نماز پڑھ لے تو یہ جائز ہے۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْمِسْحَاجِ بْنِ مُوسَى، قَالَ: قُلْتُ لِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ حَدِّثْنَا مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: كُنَّا إِذَا كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السَّفَرِ، فَقُلْنَا: زَالَتِ الشَّمْسُ أَوْ لَمْ تَزُلْ، " صَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ ارْتَحَلَ".
مسحاج بن موسیٰ کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے کہا: ہم سے آپ کوئی ایسی حدیث بیان کیجئے جسے آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہو، انہوں نے کہا: جب ہم لوگ سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوتے تو ہم کہتے: سورج ڈھل گیا یا نہیں ۱؎ تو آپ ظہر پڑھتے پھر کوچ کرتے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1204]
💡 وضاحت:
۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ اگر امام کو وقت ہو جانے کا یقین ہے تو مقتدیوں کے شک کا کوئی اعتبار نہ ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن ¤ أبو معاوية الضرير صرح بالسماع عند أحمد (3/113) وله شاھد انظر الحديث الآتي (1205)
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 1586)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/تقصیر الصلاة 15 (1111)، 16 (1112)، صحیح مسلم/المسافرین 5 (704)، سنن النسائی/المواقیت 41 (587)، مسند احمد (3/ 113، 247، 265) (صحیح)
سنن أبي داود • حدیث #1204
1202 1203 1204 1205 1206

📖 اسی باب کی مزید احادیث (Related Hadiths)

#1205 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، حَدَّثَنِي حَمْزَةُ الْعَائِذِيُّ، رَجُلٌ م...
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی مقام پر قیام فرماتے تو ظہر ...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ