سنن أبي داود حدیث نمبر: 1198
Sunan Abi Dawud 1198
کتاب #4: کتاب: نماز سفر کے احکام و مسائل
1: باب صَلاَةِ الْمُسَافِرِ
باب: مسافر کی نماز کا بیان۔
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: " فُرِضَتِ الصَّلَاةُ رَكْعَتَيْنِ، رَكْعَتَيْنِ فِي الْحَضَرِ وَالسَّفَرِ، فَأُقِرَّتْ صَلَاةُ السَّفَرِ، وَزِيدَ فِي صَلَاةِ الْحَضَرِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ سفر اور حضر دونوں میں دو دو رکعت نماز فرض کی گئی تھی، پھر سفر کی نماز (حسب معمول) برقرار رکھی گئی اور حضر کی نماز میں اضافہ کر دیا گیا ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1198]
💡 وضاحت:
۱؎: اضافہ صرف چار رکعت والی نماز ظہر، عصر اور عشاء میں کیا گیا، مغرب کی حیثیت دن کے وتر کی ہے، اور فجر میں لمبی قرات مسنون ہے اس لئے ان دونوں میں اضافہ نہیں کیا گیا۔ بعض علماء کے نزدیک سفر میں قصر واجب ہے اور بعض کے نزدیک رخصت ہے چاہے تو پوری پڑھے اور چاہے تو قصر کرے مگر قصر افضل ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري (350) صحيح مسلم (685)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الصلاة 1 (350)، وتقصیر الصلاة 5 (1090)، فضائل الصحابة 76 (3720)، صحیح مسلم/المسافرین 1 (685)، سنن النسائی/الصلاة 3 (456)، (تحفة الأشراف: 1648)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/قصر الصلاة 1 (9)، مسند احمد (6/234، 241، 265، 272)، سنن الدارمی/الصلاة 179(1550) (صحیح)