سنن أبي داود حدیث نمبر: 1183
Sunan Abi Dawud 1183
کتاب #3: کتاب: نماز استسقاء کے احکام ومسائل
5: باب مَنْ قَالَ أَرْبَعُ رَكَعَاتٍ
باب: نماز کسوف میں چار رکوع کے قائلین کی دلیل کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " أَنَّهُ صَلَّى فِي كُسُوفِ الشَّمْسِ، فَقَرَأَ، ثُمَّ رَكَعَ، ثُمَّ قَرَأَ، ثُمَّ رَكَعَ، ثُمَّ قَرَأَ، ثُمَّ رَكَعَ، ثُمَّ قَرَأَ، ثُمَّ رَكَعَ، ثُمَّ سَجَدَ وَالْأُخْرَى مِثْلُهَا".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے سورج گرہن کی نماز پڑھی تو قرآت کی، پھر رکوع کیا، پھر قرآت کی، پھر رکوع کیا، پھر قرآت کی، پھر رکوع کیا، پھر قرآت کی، پھر رکوع کیا، پھر سجدہ کیا، اور دوسری (رکعت) بھی اسی طرح پڑھی۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1183]
قال الشيخ الألباني:
منكر
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم (909)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الکسوف 4 (908)، سنن الترمذی/الصلاة 279 (الجمعة 44) (560)، سنن النسائی/الکسوف 8 (1468-1469)، (تحفة الأشراف: 5697)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/ 216، 225، 298، 346، 358)، سنن الدارمی/ الصلاة 187(1534) (تین طریق سے ابن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت میں دو رکوع، اور دو سجدہ کا تذکرہ ہے، اس لئے علماء کے قول کے مطابق حبیب نے ثقات کی مخالفت کی ہے، اور یہ مدلس ہیں، اور ان کی روایت عنعنہ سے ہے) (ملاحظہ ہو: ضعیف سنن ابی داود 2؍ 20)