📖 سنن أبي داود • فہرست کتب (Book Index) ↗

سنن أبي داود

Sunan Abi Dawud (سُنَنُ أَبِي دَاوُدَ)
📁 کتاب: طہارت کے مسائل (كِتَاب الطَّهَارَةِ) 🏷️ باب: باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا بیان۔
عربی:
اردو:
سنن أبي داود حدیث نمبر: 117 Sunan Abi Dawud 117
کتاب #1: کتاب: طہارت کے مسائل
50: باب صِفَةِ وُضُوءِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم
باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ بْنِ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ الْخَوْلَانِيُّ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: دَخَلَ عَلَيَّ عَلِيٌّ يَعْنِي ابْنَ أَبِي طَالِبٍ وَقَدْ أَهْرَاقَ الْمَاءَ، فَدَعَا بِوَضُوءٍ فَأَتَيْنَاهُ بِتَوْرٍ فِيهِ مَاءٌ حَتَّى وَضَعْنَاهُ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ: يَا ابْنَ عَبَّاسٍ، أَلَا أُرِيكَ كَيْفَ كَانَ يَتَوَضَّأُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: " فَأَصْغَى الْإِنَاءَ عَلَى يَدِهِ فَغَسَلَهَا، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى فَأَفْرَغَ بِهَا عَلَى الْأُخْرَى، ثُمَّ غَسَلَ كَفَّيْهِ، ثُمَّ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْثَرَ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَيْهِ فِي الْإِنَاءِ جَمِيعًا فَأَخَذَ بِهِمَا حَفْنَةً مِنْ مَاءٍ فَضَرَبَ بِهَا عَلَى وَجْهِهِ، ثُمَّ أَلْقَمَ إِبْهَامَيْهِ مَا أَقْبَلَ مِنْ أُذُنَيْهِ ثُمَّ الثَّانِيَةَ ثُمَّ الثَّالِثَةَ مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ أَخَذَ بِكَفِّهِ الْيُمْنَى قَبْضَةً مِنْ مَاءٍ فَصَبَّهَا عَلَى نَاصِيَتِهِ فَتَرَكَهَا تَسْتَنُّ عَلَى وَجْهِهِ، ثُمَّ غَسَلَ ذِرَاعَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَهُ وَظُهُورَ أُذُنَيْهِ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَيْهِ جَمِيعًا فَأَخَذَ حَفْنَةً مِنْ مَاءٍ فَضَرَبَ بِهَا عَلَى رِجْلِهِ وَفِيهَا النَّعْلُ فَفَتَلَهَا بِهَا، ثُمَّ الْأُخْرَى مِثْلَ ذَلِكَ، قَالَ: قُلْتُ: وَفِي النَّعْلَيْنِ؟ قَالَ: وَفِي النَّعْلَيْنِ، قَالَ: قُلْتُ: وَفِي النَّعْلَيْنِ؟ قَالَ: وَفِي النَّعْلَيْنِ، قَالَ: قُلْتُ: وَفِي النَّعْلَيْنِ؟ قَالَ: وَفِي النَّعْلَيْنِ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَحَدِيثُ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ شَيْبَةَ، يُشْبِهُ حَدِيثَ عَلِيٍّ لِأَنَّهُ قَالَ فِيهِ حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جُرَيْجٍ: وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ مَرَّةً وَاحِدَةً، وَقَالَ ابْنُ وَهْبٍ فِيهِ: عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ ثَلَاثًا.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ استنجاء کر کے میرے پاس آئے، اور وضو کے لیے پانی مانگا، ہم ایک پیالہ لے کر ان کے پاس آئے جس میں پانی تھا یہاں تک کہ ہم نے انہیں ان کے سامنے رکھا تو انہوں نے مجھ سے کہا: اے ابن عباس! کیا میں تمہیں دکھاؤں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح وضو کرتے تھے؟ میں نے کہا: ہاں، ضرور دکھائیے، تو آپ نے برتن جھکا کر ہاتھ پر پانی ڈالا پھر اسے دھویا پھر اپنا داہنا ہاتھ (برتن میں) داخل کیا (اور پانی لے کر) اسے دوسرے پر ڈالا پھر اپنی دونوں ہتھیلیوں کو دھویا، پھر کلی کی اور ناک جھاڑی، پھر اپنے دونوں ہاتھ (ملا کر) ایک ساتھ برتن میں ڈالے اور لپ بھر پانی لیا اور اسے اپنے منہ پر مارا پھر دونوں انگوٹھوں کو کانوں کے اندر یعنی سامنے کے رخ پر پھیرا، پھر دوسری اور تیسری بار (بھی) ایسا ہی کیا، پھر اپنی داہنی ہتھیلی میں ایک چلو پانی لے کر اپنی پیشانی پر ڈالا اور اسے چھوڑ دیا، وہ آپ کے چہرے پر بہہ رہا تھا، پھر دونوں ہاتھ تین تین بار کہنیوں تک دھوئے، اس کے بعد سر اور دونوں کانوں کے اوپری حصہ کا مسح کیا، پھر اپنے دونوں ہاتھ پانی میں ڈال کر ایک لپ بھر پانی لیا اور اسے (دائیں) پیر پر ڈالا، اس وقت وہ پیر میں جوتا پہنے ہوئے تھے اور اس سے پیر دھویا پھر دوسرے پیر پر بھی اسی طرح پانی ڈال کر اسے دھویا ۱؎۔ عبیداللہ خولانی کہتے ہیں کہ میں نے (عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے) پوچھا: علی رضی اللہ عنہ نے دونوں پیر میں جوتا پہنے پہنے ایسا کیا؟ آپ نے کہا: ہاں، جوتا پہنے پہنے کیا، میں نے کہا: جوتا پہنے پہنے؟ آپ نے کہا: ہاں، جوتا پہنے پہنے، پھر میں نے کہا: جوتا پہنے پہنے؟ آپ نے کہا: ہاں چپل پہنے پہنے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابن جریج کی حدیث جسے انہوں نے شیبہ سے روایت کیا ہے علی رضی اللہ عنہ کی حدیث کے مشابہ ہے اس لیے کہ اس میں حجاج بن محمد نے ابن جریج سے «مسح برأسه مرة واحدة» کہا ہے اور ابن وہب نے اس میں ابن جریج سے «ومسح برأسه ثلاثا» روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 117]
💡 وضاحت:
۱؎: متن حدیث میں «ففتلها» کا لفظ وارد ہوا ہے جس کے معنی بہت تھوڑی چیز کے ہیں یعنی بہت ہلکا دھویا شیعہ اس حدیث سے ننگے اور کھلے پاؤں پر مسح کی دلیل پکڑتے ہیں، حالانکہ ایک نسخہ میں «ففتلها» کی جگہ «فغسلها» وارد ہوا ہے، نیز یہ حدیث بتصریح امام بخاری ضعيف ہے اس میں کوئی علت خفیہ ہے، بفرض صحت امام خطابی اور ابن القیم نے چند تاویلات کی ہیں۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن ¤ ابن اسحاق صرح بالسماع عند احمد: 1/ 82
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، تحفة الأشراف (10198)، وحدیث ابن جریج عن شیبة أخرجہ: سنن النسائی/الطہارة 78 (95)، تحفة الأشراف (10075)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/82) (ضعیف) (بتصریح امام ترمذی: امام بخاری نے اس کو ضعیف قرار دیا ہے)
سنن أبي داود • حدیث #117
115 116 117 118 119

📖 اسی باب کی مزید احادیث (Related Hadiths)

#106 حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَ...
عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے غلام حمران بن ابان کہتے ہیں کہ میں نے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو دی...
#107 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّ...
حمران کہتے ہیں کہ میں نے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو وضو کرتے دیکھا، پھر اس حدیث کے ہم معنی حدیث ذ...
#108 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ الْإِسْكَنْدَرَانِيُّ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنِي...
عثمان بن عبدالرحمٰن تیمی کہتے ہیں کہ ابن ابی ملیکہ سے وضو کے متعلق پوچھا گیا، تو انہوں نے کہا: میں ن...
#109 حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا عِيسَى، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ ...
ابوعلقمہ کہتے ہیں کہ عثمان رضی اللہ عنہ نے پانی منگوایا اور وضو کیا، پہلے داہنے ہاتھ سے بائیں ہاتھ پ...
#110 حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَن...
ابووائل شقیق بن سلمہ کہتے ہیں کہ میں نے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے وضو میں اپنے...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ