سنن أبي داود حدیث نمبر: 1115
Sunan Abi Dawud 1115
کتاب #--: ابواب: جمعہ المبارک کے احکام ومسائل
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَمْرٍو وَهُوَ ابْنُ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ، فَقَالَ" أَصَلَّيْتَ يَا فُلَانُ؟" قَالَ: لَا، قَالَ: " قُمْ فَارْكَعْ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص جمعہ کے دن (مسجد میں) آیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے، تو آپ نے فرمایا: ”اے فلاں! کیا تم نے نماز پڑھ لی ہے؟“، اس نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اٹھ کر نماز پڑھو ۱؎“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1115]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ سلیک غطفانی تھے جیسا کہ اگلی روایت میں اس کی تصریح آئی ہے، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی امام کے خطبہ دینے کی حالت میں مسجد میں آئے تو وہ دو رکعت تحیۃ المسجد پڑھ کر بیٹھے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري (930) صحيح مسلم (875)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/التھجد 25 (1166)، والجمعة 32 (930)، 33 (931)، صحیح مسلم/الجمعة 14 (875)، سنن الترمذی/الصلاة 250 (الجمعة 15) (510)، سنن النسائی/الجمعة 16 (1396)، (تحفة الأشراف: 2511)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 87 (1113)، مسند احمد (3/297، 308، 369)، سنن الدارمی/الصلاة 96 (1406) (صحیح)