سنن أبي داود حدیث نمبر: 1110
Sunan Abi Dawud 1110
کتاب #--: ابواب: جمعہ المبارک کے احکام ومسائل
236: باب الاِحْتِبَاءِ وَالإِمَامُ يَخْطُبُ
باب: امام خطبہ دے رہا ہو تو لوگ گوٹ مار کر نہ بیٹھیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ، حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي مَرْحُومٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنِ الْحُبْوَةِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ".
معاذ بن انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے دن امام کے خطبہ دینے کی حالت میں حبوہ ۱؎ (گوٹ مار کر بیٹھنے سے) منع فرمایا ہے ۲؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1110]
💡 وضاحت:
۱؎: حبوۃ (گوٹ مار کر بیٹھنے) کی صورت یہ ہے کہ دونوں پاؤں کھڑا رکھے، اور انہیں پیٹ سے ملائے رکھے، اور دونوں سرین پر بیٹھے، اور کپڑے سے دونوں پاؤں اور پیٹ باندھ لے یا ہاتھوں سے حلقہ بنا لے۔
۲؎: اس سے اس لئے منع کیا گیا ہے کہ اس طرح بیٹھنے سے نیند زیادہ آتی ہے، اور ہوا خارج ہونے کا امکان زیادہ بڑھ جاتا ہے، بسا اوقات وضو ٹوٹ جاتا ہے، اور آدمی کو اس کی خبر نہیں ہو پاتی ہے۔
۲؎: اس سے اس لئے منع کیا گیا ہے کہ اس طرح بیٹھنے سے نیند زیادہ آتی ہے، اور ہوا خارج ہونے کا امکان زیادہ بڑھ جاتا ہے، بسا اوقات وضو ٹوٹ جاتا ہے، اور آدمی کو اس کی خبر نہیں ہو پاتی ہے۔
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن ¤ مشكوة المصابيح (1393) ¤ أخرجه الترمزي (514 وسنده حسن)
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/الصلاة 253 (الجمعة 18) (514)، (تحفة الأشراف: 11299)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/439) (حسن)