سنن أبي داود حدیث نمبر: 1050
Sunan Abi Dawud 1050
کتاب #--: ابواب: جمعہ المبارک کے احکام ومسائل
211: باب فَضْلِ الْجُمُعَةِ
باب: نماز جمعہ کی فضیلت کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ أَتَى الْجُمُعَةَ فَاسْتَمَعَ وَأَنْصَتَ غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَ الْجُمُعَةِ إِلَى الْجُمُعَةِ، وَزِيَادَةَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ، وَمَنْ مَسَّ الْحَصَى فَقَدْ لَغَا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اچھی طرح وضو کرے پھر جمعہ کے لیے آئے اور غور سے خطبہ سنے اور خاموش رہے تو اس کے اس جمعہ سے دوسرے جمعہ تک کے اور مزید تین دن کے گناہ ۱؎ بخش دئیے جائیں گے اور جس نے کنکریاں ہٹائیں تو اس نے لغو حرکت کی“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1050]
💡 وضاحت:
۱؎: مراد گناہ صغیرہ ہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم (758)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الجمعة 8 (857)، سنن الترمذی/الجمعة 5 (498)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 62 (1025)، 81 (1090)، (تحفة الأشراف: 12504)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/424) (صحیح)