سنن أبي داود حدیث نمبر: 1037
Sunan Abi Dawud 1037
کتاب #--: ابواب: نماز شروع کرنے کے احکام ومسائل
203: باب مَنْ نَسِيَ أَنْ يَتَشَهَّدَ وَهُوَ جَالِسٌ
باب: جو شخص قعدہ میں بیٹھا ہو اور تشہد پڑھنا بھول جائے وہ کیا کرے؟
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْجُشَمِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، قَالَ: صَلَّى بِنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ فَنَهَضَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ، قُلْنَا: سُبْحَانَ اللَّهِ، قَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ، وَمَضَى، فَلَمَّا أَتَمَّ صَلَاتَهُ وَسَلَّمَ" سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ" فَلَمَّا انْصَرَفَ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ كَمَا صَنَعْتُ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَكَذَلِكَ رَوَاهُ ابْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، وَرَفَعَهُ، وَرَوَاهُ أَبُو عُمَيْسٍ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ عُبَيْدٍ، قَالَ: صَلَّى بِنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ، مِثْلَ حَدِيثِ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ. قَالَ أَبُو دَاوُد: أَبُو عُمَيْسٍ أَخُو الْمَسْعُودِيِّ، وَفَعَلَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ مِثْلَ مَا فَعَلَ الْمُغِيرَةُ، وَعِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ، وَالضَّحَّاكُ بْنُ قَيْسٍ، وَمُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ، وَابْنُ عَبَّاسٍ أَفْتَى بِذَلِكَ وَعُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهَذَا فِيمَنْ قَامَ مِنْ ثِنْتَيْنِ، ثُمَّ سَجَدُوا بَعْدَ مَا سَلَّمُوا.
زیاد بن علاقہ کہتے ہیں مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں نماز پڑھائی، وہ دو رکعتیں پڑھ کر کھڑے ہو گئے، ہم نے ”سبحان الله“ کہا، انہوں نے بھی ”سبحان الله“ کہا اور (واپس نہیں ہوئے) نماز پڑھتے رہے، پھر جب انہوں نے اپنی نماز پوری کر لی اور سلام پھیر دیا تو سہو کے دو سجدے کئے، پھر جب نماز سے فارغ ہو کر پلٹے تو کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے ہی کرتے دیکھا ہے، جیسے میں نے کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح اسے ابن ابی لیلیٰ نے شعبی سے، شعبی نے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے اور اسے مرفوع قرار دیا ہے، نیز اسے ابو عمیس نے ثابت بن عبید سے روایت کیا ہے، اس میں ہے کہ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں نماز پڑھائی، پھر راوی نے زیاد بن علاقہ کی حدیث کے مثل روایت ذکر کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابو عمیس مسعودی کے بھائی ہیں اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے ویسے ہی کیا جیسے مغیرہ، عمران بن حصین، ضحاک بن قیس اور معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہم نے کیا، اور ابن عباس رضی اللہ عنہما اور عمر بن عبدالعزیز نے اسی کا فتوی دیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کا حکم ان لوگوں کے لیے ہے جو دو رکعتیں پڑھ کر بغیر قعدہ اور تشہد کے اٹھ کھڑے ہوں، انہیں چاہیئے کہ سلام پھیرنے کے بعد سہو کے دو سجدے کریں۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1037]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن ¤ وللحديث شاھد حسن عند الطحاوي في معاني الآثار (1/ 440 وسنده حسن)
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/الصلاة 152 (365)، (تحفة الأشراف: 11500)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/247، 253، 254)، سنن الدارمی/الصلاة 176(1542) (صحیح) (مسعودی مختلط راوی ہیں، لیکن ان کے کئی متابعت کرنے والے پائے جاتے ہیں)