سنن أبي داود حدیث نمبر: 1028
Sunan Abi Dawud 1028
کتاب #--: ابواب: نماز شروع کرنے کے احکام ومسائل
200: باب مَنْ قَالَ يُتِمُّ عَلَى أَكْبَرِ ظَنِّهِ
باب: غالب گمان کے مطابق رکعات پوری کرے اس کے قائلین کی دلیل کا بیان۔
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ خُصَيْفٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا كُنْتَ فِي صَلَاةٍ فَشَكَكْتَ فِي ثَلَاثٍ أَوْ أَرْبَعٍ وَأَكْبَرُ ظَنِّكَ عَلَى أَرْبَعٍ تَشَهَّدْتَ، ثُمَّ سَجَدْتَ سَجْدَتَيْنِ وَأَنْتَ جَالِسٌ قَبْلَ أَنْ تُسَلِّمَ، ثُمَّ تَشَهَّدْتَ أَيْضًا، ثُمَّ تُسَلِّمُ". قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ عَبْدُ الْوَاحِدِ، عَنْ خُصَيْفٍ، وَلَمْ يَرْفَعْهُ، وَوَافَقَ عَبْدَ الْوَاحِدِ أَيْضًا سُفْيَانُ، وَشَرِيكٌ، وَإِسْرَائِيلُ وَاخْتَلَفُوا فِي الْكَلَامِ فِي مَتْنِ الْحَدِيثِ وَلَمْ يُسْنِدُوهُ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”جب تم نماز میں رہو اور تمہیں تین یا چار میں شک ہو جائے اور تمہارا غالب گمان یہ ہو کہ چار رکعت ہی پڑھی ہے تو تشہد پڑھو، پھر سلام پھیرنے سے پہلے بیٹھے بیٹھے سہو کے دو سجدے کرو، پھر تشہد پڑھو اور پھر سلام پھیر دو“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے عبدالواحد نے خصیف سے روایت کیا ہے اور مرفوع نہیں کیا ہے۔ نیز سفیان، شریک اور اسرائیل نے عبدالواحد کی موافقت کی ہے اور ان لوگوں نے متن حدیث میں اختلاف کیا ہے اور اسے مسند نہیں کیا ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1028]
💡 وضاحت:
۱؎: کیونکہ ابوعبیدہ نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے نہیں سنا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ أ بو عبيدة عن أبيه: منقطع ¤ وخصيف: ضعيف ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 48
تخریج دارالدعوہ:
ن الکبری / السہو 126 (605)، وانظر رقم: (1019)، (تحفة الأشراف: 9605)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/428، 429 موقوفاً) (ضعیف) (ابوعبیدہ کا اپنے والد ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں ہے)