📖 سنن أبي داود • فہرست کتب (Book Index) ↗

سنن أبي داود

Sunan Abi Dawud (سُنَنُ أَبِي دَاوُدَ)
📁 ابواب: نماز شروع کرنے کے احکام ومسائل (أبواب تفريع استفتاح الصلاة) 🏷️ باب: باب: وضو ٹوٹ جانے پر دوبارہ نماز ادا کرنے کا بیان۔
عربی:
اردو:
سنن أبي داود حدیث نمبر: 1005 Sunan Abi Dawud 1005
کتاب #--: ابواب: نماز شروع کرنے کے احکام ومسائل
195: باب إِذَا أَحْدَثَ فِي صَلاَتِهِ يَسْتَقْبِلُ
باب: وضو ٹوٹ جانے پر دوبارہ نماز ادا کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ عِيسَى بْنِ حِطَّانَ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ سَلَّامٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ طَلْقٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا فَسَا أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ فَلْيَنْصَرِفْ، فَلْيَتَوَضَّأْ وَلْيُعِدْ صَلَاتَهُ".
علی بن طلق رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو دوران نماز بغیر آواز کے ہوا خارج ہو تو وہ (نماز) چھوڑ کر چلا جائے اور وضو کرے اور نماز دہرائے ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1005]
💡 وضاحت:
۱؎: علی بن طلق رضی اللہ عنہ کی یہ روایت صحت کے اعتبار سے ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی اس روایت سے زیادہ راجح ہے جو کتاب الطہارۃ میں آئی ہے اور جس میں ہے: «من أصابه قيء في صلواته أو رعاف فإنه ينصرف ويبني على صلاته» کیونکہ اگرچہ علی بن طلق اور عائشہ رضی اللہ عنہما دونوں کی روایتوں میں کلام ہے لیکن علی بن طلق رضی اللہ عنہ کی روایت کو ابن حبان نے صحیح کہا ہے اور عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت کو کسی نے صحیح نہیں کہا ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن ¤ انظر الحديث السابق (205)
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم:205، (تحفة الأشراف: 10344) (ضعیف) (اس کے راوی عیسیٰ اور مسلم دونوں لین الحدیث ہیں)
سنن أبي داود • حدیث #1005
1003 1004 1005 1006 1007
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ