شمائل ترمذی حدیث نمبر: 9
Shamail al-Tirmidhi 9
کتاب #1: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حلیہ مبارک کا بیان
8: بَابُ مَا جَاءَ فِي خَلْقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاند سے بھی بہت زیادہ خوبصورت تھے
حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ يَقُولُ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَلِيعَ الْفَمِ، أَشْكَلَ الْعَيْنِ، مَنْهُوسَ الْعَقِبِ» . قَالَ شُعْبَةُ: قُلْتُ لِسِمَاكٍ: مَا ضَلِيعُ الْفَمِ؟ قَالَ: عَظِيمُ الْفَمِ، قُلْتُ: مَا أَشْكَلُ الْعَيْنِ؟ قَالَ: طَوِيلُ شِقِّ الْعَيْنِ، قُلْتُ: مَا مَنْهُوسُ الْعَقِبِ؟ قَالَ: قَلِيلُ لَحْمِ الْعَقِبِ.
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم «ضليع الفم»، «اشكل العينين» اور «منهوس العقب» تھے۔ شعبہ کہتے ہیں: میں نے (اپنے استاد) سماک بن حرب سے پوچھا کہ «ضليع الفم» کے کیا معنی ہیں؟ انہوں نے کہا: کشادہ اور فراخ منہ والے، میں نے کہا: «اشكل العينين» کا مطلب کیا ہے؟ انہوں نے کہا: آنکھوں کے گوشے یعنی کنارے لمبے تھے۔ میں نے کہا: «منهوس العقب» کے کیا معنی ہیں؟ انہوں نے کہا: ایڑیوں پر گوشت کم تھا۔ [شمائل ترمذي/حدیث: 9]
قال الشيخ زبیر علی زئی:
سنده صحيح
تخریج:
سنده صحيح : (سنن ترمذي:3647، وقال: هذا حديث حسن صحيح)، صحيح مسلم (2339)