📖 شمائل ترمذی • فہرست کتب (Book Index) ↗

شمائل ترمذی

Shamail al-Tirmidhi (الشَّمَائِلُ الْمُحَمَّدِيَّةُ)
📁 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کنگھی کرنے کا بیان (بَابُ مَا جَاءَ فِي تَرَجُّلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) 🏷️ باب: (کنگھی کرنے میں مبالغہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پسند نہ تھا)
عربی:
اردو:
4: بَابُ مَا جَاءَ فِي تَرَجُّلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
(کنگھی کرنے میں مبالغہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پسند نہ تھا)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عنِ التَّرَجُّلِ إِلَّا غِبًّا»
سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلاناغہ روزانہ کنگھی کرنے سے منع فرمایا۔ [شمائل ترمذي/حدیث: 35]
قال الشيخ زبیر علی زئی: سنده ضعيف
تخریج: سنده ضعيف : (سنن ترمذي: 1756، وقال: هذا حديث حسن صحيح)، ابوداؤد (4159)، نسائي (132/8 ح5058) روایت مذکورہ میں وجہ ضعف دو ہیں: ➊ ہشام بن حسان مدلس تھے اور یہ روایت عن سے ہے۔ ➋ حسن بصری مدلس تھے اور یہ روایت عن سے ہے۔ سنن نسائی (5059) وغیرہ میں اس کے ضعیف شواہد بھی ہیں۔ ایک صحیح حدیث میں آیا ہے کہ ایک صحابی نے فرمایا: كان نبي الله ينهانا عن الارفاء ”اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں ارفاء سے منع فرماتے تھے“ پوچھا گیا: ارفاء سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے فرمایا: روزانہ کنگھی کرنا۔ [سنن نسائي: 5061 وسنده صحيح ] ثابت ہوا کہ شرعی عذر کے بغیر خواہ مخواہ کئی کئی مرتبہ کنگھی کرنے میں وقت ضائع نہیں کرنا چاہئیے، بہتر یہی ہے کہ ایک دن چھوڑ کر سر کے بالوں کی کنگھی کی جائے۔
شمائل ترمذی • حدیث #35
33 34 35 36 37

📖 اسی باب کی مزید احادیث (Related Hadiths)

#36 حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ [ص: 54] يَز...
حمید بن عبدالرحمن صحابہ میں سے ایک مرد سے بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ناغہ کر کے کن...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ