شمائل ترمذی حدیث نمبر: 348
Shamail al-Tirmidhi 348
کتاب #48: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کا بیان
20: بَابُ مَا جَاءَ فِي خُلُقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حق بات پہ کٹتی ہے تو کٹ جائے زباں میری
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْتَصِرًا مِنْ مَظْلَمَةٍ ظُلِمَهَا قَطُّ مَا لَمْ يُنْتَهَكْ مِنْ مَحَارِمِ اللَّهِ تَعَالَى شَيْءٌ، فَإِذَا انْتُهِكَ مِنْ مَحَارِمِ اللَّهِ شَيْءٌ كَانَ مِنْ أَشَدِّهِمْ فِي ذَلِكَ غَضَبًا، وَمَا خُيِّرَ بَيْنَ أَمْرَيْنِ إِلَّا اخْتَارَ أَيْسَرَهُمَا مَا لَمْ يَكُنْ مَأْثَمًا»
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ فرماتی ہیں کہ جب کبھی بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی ظلم و زیادتی ہوئی ہو تو اس کا انتقام اور بدلہ لیتے ہوئے میں نے آپ کو کبھی نہیں دیکھا مگر جب اللہ تعالیٰ کے محارم کی ہتک اور بے حرمتی ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ غضب ناک ہو جاتے، اور جب بھی دو باتوں میں اختیار دیا گیا تو آپ نے ان میں سے آسان بات پسند کر لی بشرطیکہ وہ گناہ نہ ہو۔ [شمائل ترمذي/حدیث: 348]
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج:
صحيح : صحيح مسلم (2327) مختصرا.