📖 شمائل ترمذی • فہرست کتب (Book Index) ↗

شمائل ترمذی

Shamail al-Tirmidhi (الشَّمَائِلُ الْمُحَمَّدِيَّةُ)
📁 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کا بیان (بَابُ مَا جَاءَ فِي خُلُقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) 🏷️ باب: برے آدمی سے بھی اچھے انداز سے پیش آنا
عربی:
اردو:
شمائل ترمذی حدیث نمبر: 343 Shamail al-Tirmidhi 343
کتاب #48: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کا بیان
15: بَابُ مَا جَاءَ فِي خُلُقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
🏷️ باب: برے آدمی سے بھی اچھے انداز سے پیش آنا
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقْبِلُ بِوَجْهِهِ وَحَدِيثِهِ عَلَى أَشَرِّ الْقَوْمِ يَتَأَلَّفُهُمْ بِذَلِكَ فَكَانَ يُقْبِلُ بِوَجْهِهِ وَحَدِيثِهِ عَلَيَّ، حَتَّى ظَنَنْتُ أَنِّي خَيْرُ الْقَوْمِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَا خَيْرٌ أَوْ أَبُو بَكْرٍ؟ قَالَ: «أَبُو بَكْرٍ» فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَا خَيْرٌ أَوْ عُمَرُ؟ فَقَالَ: «عُمَرُ» ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَا خَيْرٌ أَوْ عُثْمَانُ؟ قَالَ: «عُثْمَانُ» ، فَلَمَّا سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَدَقَنِي فَلَوَدِدْتُ أَنِّي لَمْ أَكُنْ سَأَلْتُهُ
سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قوم کے بدترین شخص کی طرف بھی اپنے پورے روئے انور کے ساتھ اور نرم گفتگو کے ساتھ متوجہ ہوتے تاکہ وہ اس کی وجہ سے الفت و رغبت حاصل کرے، اسی طرح پوری توجہ اور محبت بھری گفتگو میرے ساتھ بھی فرماتے یہاں تک کہ مجھے یہ یقین ہو گیا کہ میں قوم کا بہترین فرد ہوں۔ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میں بہتر ہوں یا ابوبکر؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ابوبکر“، پھر میں نے عرض کہا کہ میں بہتر ہوں یا عمر؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”عمر“، پھر میں نے عرض کیا کہ آیا میں بہتر ہوں یا عثمان؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عثمان“، جب میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات پوچھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے نہایت ہی سچا جواب مرحمت فرمایا: البتہ مجھے پسند تھا کہ اے کاش میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات نہ پوچھی ہوتی۔ [شمائل ترمذي/حدیث: 343]
قال الشيخ زبیر علی زئی: سنده ضعيف
تخریج: سنده ضعيف : اس کے راوی محمد بن اسحاق بن یسار جمہور کے نزدیک موثق ہونے کی وجہ سے صدوق حسن الحدیث تھے، لیکن مدلس بھی تھے اور یہ سند عن سے ہے، لہٰذا ضعیف ہے۔ حافظ ہیثمی نے مجمع الزوائد (15/9) میں اسے بحوالہ طبرانی نقل کر کے حسن قرار دیا، لیکن مجھے طبرانی کی سند معلوم نہیں ہو سکی۔ واللہ اعلم
شمائل ترمذی • حدیث #343
341 342 343 344 345

📖 اسی کتاب کی دیگر احادیث (Related Hadiths)

#342 حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْ...
خارجہ بن زید بن ثابت سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ چند افراد سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس آئ...
#344 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الضُّبَعِيُّ، عَنْ ثَ...
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت...
#345 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَحَمْدُ بْنُ عَبْدَةَ هُوَ الضَّبِّيُّ وَالْمَعْنَى وَاحِدٌ، ...
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ...
#346 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْب...
ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ...
#347 حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُر...
ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ س...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ