شمائل ترمذی حدیث نمبر: 255
Shamail al-Tirmidhi 255
کتاب #39: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سونے کا بیان
2: بَابُ مَا جَاءَ فِي نَوْمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
سونے اور سو کر اٹھتے وقت کی دعا ئیں
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ قَالَ: «اللَّهُمَّ بِاسْمِكَ أَمُوتُ وَأَحْيَا» ، وَإِذَا اسْتَيْقَظَ قَالَ: «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَانًا بَعْدَمَا أَمَاتَنَا وَإِلَيْهِ النُّشُورُ»
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سونے کا ارادہ فرماتے تو یوں دعا کرتے: «اللهم باسمك أموت وأحيا»، ”اے اللہ! میں تیرے نام سے سوتا ہوں اور تیرے نام سے ہی بیدار ہوں گا۔“ اور جب بیدار ہوتے تو یوں دعا کرتے: «الحمد لله الذي أحيانا بعد ما أماتنا وإليه النشور»، ”تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں جس نے ہمیں سونے کے بعد بیدار کیا اور مرنے کے بعد اس کی طرف ہی جانا ہے۔“ [شمائل ترمذي/حدیث: 255]
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج:
صحيح : صحيح بخاري (6312)، سنن ترمذي (3417) من حديث عبدالملك بن عمير به وقال: ”حسن صحيح“