شمائل ترمذی حدیث نمبر: 244
Shamail al-Tirmidhi 244
کتاب #37: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اشعار کہنے کا انداز
5: بَابُ مَا جَاءَ فِي صِفَةِ كَلَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الشِّعْرِ
انا النبی لاکذب
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ قَالَ: أَنْبَأَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: قَالَ لَهُ رَجُلٌ: أَفَرَرْتُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أَبَا عُمَارَةَ؟ فَقَالَ: لَا وَاللَّهِ مَا وَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَكِنْ وَلَّى سَرَعَانُ النَّاسِ تَلَقَّتْهُمْ هَوَازِنُ بِالنَّبْلِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَغْلَتِهِ، وَأَبُو سُفْيَانَ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ آخِذٌ بِلِجَامِهَا، وَرَسُولُ اللَّهِ يَقُولُ: «أَنَا النَّبِيُّ لَا كَذِبْ، أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ»
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے ان سے دریافت کیا: اے ابوعمارہ! کیا تم لوگ (حنین کے دن) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر بھاگ گئے تھے؟ انہوں نے فرمایا: نہیں، اللہ کی قسم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تو پیچھے نہیں ہٹے، بلکہ بعض جلد باز لوگوں نے قبیلہ ہوزان کی تیر اندازی کی وجہ سے منہ پھیر لیا تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خچر پر سوار تھے جس کی لگام ابوسفیان بن الحارث بن عبدالمطلب نے پکڑ رکھی تھی۔ اس وقت اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم (بآواز بلند) یہ ارشاد فرما رہے تھے: ”میں اللہ کا نبی ہوں، اس میں کوئی جھوٹ نہیں۔ میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں۔“ [شمائل ترمذي/حدیث: 244]
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج:
صحيح : (سنن ترمذي: 1688، وقال: حسن صحيح)، صحيح بخاري (2874)، صحيح مسلم (1776)