📖 شمائل ترمذی • فہرست کتب (Book Index) ↗

شمائل ترمذی

Shamail al-Tirmidhi (الشَّمَائِلُ الْمُحَمَّدِيَّةُ)
📁 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اشعار کہنے کا انداز (بَابُ مَا جَاءَ فِي صِفَةِ كَلَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الشِّعْرِ) 🏷️ باب: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کبھی کبھار کوئی شعر پڑھ لیتے تھے
عربی:
اردو:
1: بَابُ مَا جَاءَ فِي صِفَةِ كَلَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الشِّعْرِ
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کبھی کبھار کوئی شعر پڑھ لیتے تھے
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قِيلَ لَهَا: هَلْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَمَثَّلُ بِشَيْءٍ مِنَ الشِّعْرِ؟ قَالَتْ: كَانَ يَتَمَثَّلُ بِشِعْرِ ابْنِ رَوَاحَةَ، وَيَتَمَثَّلُ بِقَوْلِهِ: «وَيَأْتِيكَ بِالْأَخْبَارِ مَنْ لَمْ تُزَوَّدِ»
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ان سے پوچھا گیا کہ کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مثال کے طور پر کسی شعر کو پڑھتے تھے تو انہوں نے فرمایا کہ (ہاں) مثال کے طور پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی عبداللہ بن رواحہ کا کوئی شعر پڑھ لیتے تھے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کلام کو بھی بطور تمثیل پڑھ لیا کرتے تھے: تیرے پاس خبریں لے کر وہ آدمی آئے گا جسے تو نے زادِ راہ بھی نہیں دیا۔ [شمائل ترمذي/حدیث: 240]
قال الشيخ زبیر علی زئی: سنده ضعيف
تخریج: سنده ضعيف : (سنن ترمذي: 2848 وقال: حسن صحيح)، عمل اليوم واليلته للنسائي (997) اس روایت کی سند اس وجہ سے ضعیف ہے کہ اس کے راوی شریک القاضی مدلس تھے اور یہ سند معنعن ہے۔ اس کے ضعیف شواہد بھی ہیں۔ دیکھئے انوار الصحیفہ (ص270)
شمائل ترمذی • حدیث #240
238 239 240 241 242
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ