شمائل ترمذی حدیث نمبر: 214
Shamail al-Tirmidhi 214
کتاب #32: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پینے کا طریق کار
10: بَابُ مَا جَاءَ فِي صِفَةِ شُرْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے عذر کی بناء پر کھڑے ہو کر پیا
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَصْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَرْوِي قَالَ: حَدَّثَتْنَا عَبِيدَةُ بِنْتُ نَائِلٍ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنِ أَبِيهَا، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَشْرَبُ قَائِمًا» قَالَ: أَبُو عِيسَى: وَقَالَ بَعْضُهُمْ: عُبَيْدَةُ بِنْتُ نَابِلٍ
عائشہ بنت سعد اپنے والد سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر پانی پی لیتے تھے۔ امام ابوعیسیٰ (ترمذی) فرماتے ہیں: بعض راویوں نے عبیدہ بنت نائل کے بجائے عبیدہ بنت نابل کہا ہے۔ [شمائل ترمذي/حدیث: 214]
قال الشيخ زبیر علی زئی:
سنده ضعيف
تخریج:
سنده ضعيف : اخلاق النبى صلى الله عليه وسلم (ص226) اس روایت کی سند دو وجہ سے ضعیف ہے: ➊ اسحاق بن محمد افروی جمہور محدثین کے نزدیک ضعیف راوی ہے۔ ➋ عبیدہ بنت نائل مجہولتہ الحال راویہ ہے، ابن حبان کے علاوہ کسی نے بھی اس کی توثیق نہیں کی اور مجہول الحال یا مجہولتہ الحال کی روایت ضعیف ہوتی ہے۔ تنبیہ: حدیث سابق (206) اس ضعیف روایت سے بے نیاز کر دیتی ہے۔