📖 شمائل ترمذی • فہرست کتب (Book Index) ↗

شمائل ترمذی

Shamail al-Tirmidhi (الشَّمَائِلُ الْمُحَمَّدِيَّةُ)
📁 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پینے کا طریق کار (بَابُ مَا جَاءَ فِي صِفَةِ شُرْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) 🏷️ باب: دو سانس میں پانی پینا جائز ہے
عربی:
اردو:
شمائل ترمذی حدیث نمبر: 210 Shamail al-Tirmidhi 210
کتاب #32: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پینے کا طریق کار
6: بَابُ مَا جَاءَ فِي صِفَةِ شُرْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
دو سانس میں پانی پینا جائز ہے
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ رِشْدِينِ بْنِ كُرَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا شَرِبَ تَنَفَّسَ مَرَّتَيْنِ»
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی (کچھ) پیتے، تو دو دفعہ سانس لیتے۔ [شمائل ترمذي/حدیث: 210]
قال الشيخ زبیر علی زئی: سنده ضعيف
تخریج: سنده ضعيف : (سنن ترمذی: 1886، وقال: حسن غریب۔۔۔)، سنن ابن ماجہ (3417) اس روایت کا راوی رشدین بن کریب ضعیف ہے۔ دیکھئے: [تقريب التهذيب: 1943] جمہور محدثین نے اس پر جرح کی ہے، لہٰذا امام ترمذی رحمہ اللہ کا اس کی اس منفرد روایت کو حسن غریب قرار دینا صحیح نہیں ہے۔
شمائل ترمذی • حدیث #210
208 209 210 211 212
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ