شمائل ترمذی حدیث نمبر: 191
Shamail al-Tirmidhi 191
کتاب #28: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کھانا کھانے سے پہلے اور بعد کی دعائیں
5: بَابُ مَا جَاءَ فِي قَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ الطَّعَامِ وَبَعْدَمَا يَفْرُغُ مِنْهُ
دسترخوان سے اٹھتے وقت کی دعا اور اس کی لغوی تحقیق
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ خَالِدُ بْنُ مَعْدَانَ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رُفِعَتِ الْمَائِدَةُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ يَقُولُ: «الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ غَيْرَ مُودَعٍ وَلَا مُسْتَغْنًى عَنْهُ رَبَّنَا»
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے جب دستر خوان اٹھایا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا پڑھتے: ”«الحمد لله حمدا طيبا مباركا فيه غير مودع ولا مستغني عنه ربنا»، کہ تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں، بہت زیادہ تعریفیں، پاکیزہ اور برکت والی! اے اللہ! ہمارے رب! نہ ہم اسے چھوڑ سکتے ہیں نہ اس سے مستغنی ہو سکتے ہیں۔“ [شمائل ترمذي/حدیث: 191]
قال الشيخ زبیر علی زئی:
سنده صحيح
تخریج:
سنده صحيح : (سنن ترمذي: 3456، وقال: حسن صحيح)، (صحيح بخاري: 5458)، (سنن ابي داود: 3849)