📖 شمائل ترمذی (Shamail al-Tirmidhi) • تمام کتب ↗

بَابُ: مَا جَاءَ فِي وَفَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا بیان

کتاب #54 • کل احادیث: 14
فلٹر احادیث:
اردو سائز:
عربی سائز:
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری دیدار
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «آخِرُ نَظْرَةٍ نَظَرْتُهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَشْفُ السِّتَارَةِ يَوْمَ الْإِثْنَيْنِ، فَنَظَرْتُ إِلَى وَجْهِهِ كَأَنَّهُ وَرَقَةُ مُصْحَفٍ وَالنَّاسُ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ، فَأَشَارَ إِلَى النَّاسِ أَنِ اثْبُتُوا، وَأَبُو بَكْرٍ يَؤُمُّهُمْ وَأَلْقَى السِّجْفَ، وَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ آخِرِ ذَلِكَ الْيَوْمِ»
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں آخری نظر جس سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا وہ سوموار کا دن تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پردہ اٹھایا تو میں نے آپ کے چہرہ انور کو دیکھا گویا کہ وہ قرآن کریم کا ورق تھا۔ لوگ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھ رہے تھے قریب تھا کہ لوگ اپنی جگہوں سے حرکت کر جائیں، مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کی طرف اشارہ کیا کہ اپنی اپنی جگہوں پر ٹھہرے رہو اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ان کی امامت کر رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پردے کو نیچے گرایا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس دن کے آخر میں وفات پا گئے۔ [شمائل ترمذي/حدیث: 386]
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج: صحيح : صحيح بخاري (680) من حديث الزهري، صحيح مسلم (419) من حديث سفيان بن عيينة به.
وفات کے وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا سر مبارک سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی گود میں تھا
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ الْبَصْرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمُ بْنُ أَخْضَرَ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " كُنْتُ مُسْنِدَةً النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى صَدْرِي - أَوْ قَالَتْ: إِلَى حِجْرِي - فَدَعَا بِطَسْتٍ لِيَبُولَ فِيهِ، ثُمَّ بِالَ، فَمَاتَ"
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے سینے کی طرف یا فرمایا کہ گود میں ٹیک لگائے ہوئے تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشاب کرنے کے لیے ایک برتن منگوایا، پھر آپ نے اس میں پیشاب کیا اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات واقع ہو گئی۔ [شمائل ترمذي/حدیث: 387]
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج: صحيح : صحيح بخاري (2741)، صحيح مسلم (1636)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آخری لمحات میں اپنے ہاتھ تر کر کے چہرۂ انور پر پھیر رہے تھے
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ مُوسَى بْنِ سَرْجِسَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِالْمَوْتِ وَعِنْدَهُ قَدَحٌ فِيهِ مَاءٌ، وَهُوَ يُدْخِلُ يَدَهُ فِي الْقَدَحِ ثُمَّ يَمْسَحُ وَجْهَهُ بِالْمَاءِ، ثُمَّ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى مُنْكَرَاتِ - أَوْ قَالَ عَلَى سَكَرَاتِ - الْمَوْتِ»
ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ پر موت کی حالت طاری تھی اور آپ کے پاس ایک پیالہ پڑا ہوا تھا جس میں پانی تھا۔ آپ اپنا دست مبارک پیالہ میں ڈالتے پھر پانی سے چہرہ انور صاف کرتے اور فرماتے: ”اے اللہ! موت کی سختیوں میں“ یا فرمایا ”موت کی بے ہوشیوں میں میری مدد فرما۔“ [شمائل ترمذي/حدیث: 388]
قال الشيخ زبیر علی زئی: سنده حسن
تخریج: سنده حسن : (سنن ترمذي: 978، وقال: غريب)، سنن ابن ماجه (1623) من حديث الليث بن سعد عن يزيد بن عبدالله بن الحماد به. وصححه الحاكم والذهبي (465/2، 56/3-57)
وفات کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شدت مرض
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّازُ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُبَشِّرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «لَا أَغْبِطُ أَحَدًا بَهَوْنِ مَوْتٍ بَعْدَ الَّذِي رَأَيْتُ مِنْ شِدَّةِ مَوْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر شدت تکلیف کا مشاہدہ کرنے کے بعد کسی شخص کی موت کی آسانی پر رشک نہیں ہوا۔ امام ابوعیسیٰ ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”میں نے ابوزرعہ سے دریافت کیا کہ یہ عبدالرحمن بن علاء کون شخص ہیں؟ تو انہوں نے فرمایا: یہ عبدالرحمن بن علاء بن الجلاج ہیں۔“ [شمائل ترمذي/حدیث: 389]
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج: حسن : (سنن ترمذي: 979)، تهذيب الكمال للمزي (503/14) اس روایت کی سند ضعیف ہے، لیکن صحیح بخاری (5646) اور صحیح مسلم (2570) وغیرہما میں اس کے شواہد ہیں، جن کے ساتھ یہ حسن یا صحیح ہے۔
انبیاء کا جس جگہ انتقال ہوتا ہے اسی جگہ وہ مدفون ہوتے ہیں
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ وَهُوَ ابْنُ الْمُلَيْكِيِّ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: لَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اخْتَلَفُوا فِي دَفْنِهِ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا مَا نَسِيتُهُ قَالَ: «مَا قَبَضَ اللَّهُ نَبِيًّا إِلَا فِي الْمَوْضِعِ الَّذِي يُحِبُّ أَنْ يُدْفَنَ فِيهِ» . ادْفِنُوهُ فِي مَوْضِعِ فِرَاشِهِ
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دفن کی جگہ کے بارے مختلف آراء پیدا ہو گئیں۔ تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک بات سنی ہے جسے میں بھولا نہیں (بلکہ اچھی طرح یاد ہے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انبیاء کی وفات وہیں ہوتی ہے جہاں وہ دفن ہونا پسند کرتے ہیں۔“ چنانچہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی جگہ دفن کیا جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بستر تھا۔ [شمائل ترمذي/حدیث: 390]
قال الشيخ زبیر علی زئی: سنده ضعيف والحديث حسن
تخریج: سنده ضعيف والحديث حسن : (سنن ترمذي: 1018، و قال: غريب وعبدالرحمٰن بن ابي بكر المليكي يضعف من قبل حفظه)، مسند ابي بكر لاحمد بن على بن سعيد المروزي (43) عن ابي كريب به. اس روایت کی سند عبدالرحمٰن بن ابی بکر الملیکی کی وجہ سے ضعیف ہے، لیکن ابن سعد نے صحیح سند کے ساتھ نقل کیا کہ لوگوں نے کہا: آپ کہاں دفن کئے جائیں گے؟ تو ابوبکر (رضی اللہ عنہ) نے فرمایا: جس مکان میں آپ فوت ہوئے ہیں۔ (292/2 وصححہ الحافظ ابن حجر) اس سے دوسرے صحیح شاہد کے لئے دیکھئے حدیث: 397 ان شواہد کے ساتھ یہ حدیث بھی حسن ہے۔ واللہ اعلم فائدہ: سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مكتوب فى التوراة صفة محمد. عيسي بن مريم يدفن معه محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی صفت تورات میں لکھی ہوئی ہے۔ عیسی بن مریم (علیہ السلام) آپ کے ساتھ (حجرے میں) دفن ہوں گے۔ جمہور کے نزدیک موثق راوی ابو مودود (راوی) نے فرمایا: اور حجرے میں ایک قبر کی جگہ باقی ہے۔ (سنن ترمذي: 3617، وقال: ”حسن غريب“ وسنده حسن و أخطأ من قال: ”هذا لا يصح عندي ولا يتابع عليه“)
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بوسہ دیا
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَعَبَّاسٌ الْعَنْبَرِيُّ، وَسَوَّارُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ قَالُوا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَعَائِشَةَ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ، «قَبَّلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ مَا مَاتَ»
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ یقیناً سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کی وفات کے بعد بوسہ دیا۔ [شمائل ترمذي/حدیث: 391]
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج: صحيح : صحيح بخاري (4455۔ 4457)
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خراج عقیدت
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَرْحُومُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْعَطَّارُ، عَنِ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ بَابَنُوسَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ، دَخَلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ وَفَاتِهِ فَوَضَعَ فَمَهُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ وَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى سَاعِدَيْهِ، وَقَالَ: «وَانَبِيَّاهُ، وَاصَفِيَّاهُ، وَاخَلِيلَاهُ»
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: یقیناً سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ان پر داخل ہوئے اور اپنا لب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں کے درمیان رکھا اور اپنے ہاتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کلائیوں پر رکھے، اور فرمایا: ہائے اللہ کے نبی، ہائے اللہ کے مخلص ترین ساتھی، ہائے اللہ کے مخلص ترین دوست۔ [شمائل ترمذي/حدیث: 392]
قال الشيخ زبیر علی زئی: سنده حسن
تخریج: سنده حسن : مسند احمد (31/6) عن مرحوم بن عبدالعزيز به.
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے ہر چیز تاریک ہو گئی
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ هِلَالٍ الصَّوَّافُ الْبَصْرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: «لَمَّا كَانَ الْيَوْمُ الَّذِي دَخَلَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ أَضَاءَ مِنْهَا كُلُّ شَيْءٍ، فَلَمَّا كَانَ الْيَوْمُ الَّذِي مَاتَ فِيهِ أَظْلَمَ مِنْهَا كُلُّ شَيْءٍ، وَمَا نَفَضْنَا أَيْدِيَنَا مِنَ التُّرَابِ، وَإِنَا لَفِي دَفْنِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَنْكَرْنَا قُلُوبَنَا»
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب (ہجرت کے موقع پر) مدینہ منورہ میں تشریف لائے تو مدینہ کی ہر شے روشن تھی اور جس دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو ہر شے (غم کی وجہ سے) تاریک تھی۔ ہم نے ابھی ہاتھوں سے خاک نہ جھاڑی تھی اور دفن میں مشغول تھے کہ اسی دوران ہی ہم نے اپنے دلوں کو پہلے سے اجنبی محسوس کیا۔ [شمائل ترمذي/حدیث: 393]
قال الشيخ زبیر علی زئی: سنده حسن
تخریج: سنده حسن : (سنن ترمذي: 3618، وقال: هذا حديث صحيح غريب)، سنن ابن ماجه (1631) عن بشربن هلال به، صحيح ابن حبان (2162) وصححه الحاكم عليٰ شرط مسلم (57/3) ووافقه الذهبي.
آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوموار کے دن فوت ہوئے
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَامِرُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ»
ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سوموار کے دن ہوئی۔ [شمائل ترمذي/حدیث: 394]
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج: صحيح : اس روایت کی سند اگرچہ سخت ضعیف ہے، لیکن اس کے من وعن صحیح شواہد موجود ہیں۔ مثلاً دیکھئے حدیث نمبر 386 ان شواہد کے ساتھ یہ روایت بھی صحیح ہے۔ واللہ اعلم
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بدھ کی رات کو قبر مبارک میں اتارا گیا
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: «قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ فَمَكَثَ ذَلِكَ الْيَوْمَ وَلَيْلَةَ الثُّلَاثَاءِ، وَدُفِنَ مِنَ اللَّيْلِ» وَقَالَ سُفْيَانُ: " وَقَالَ غَيْرُهُ: يُسْمَعُ صَوْتُ الْمَسَاحِي مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ"
جعفر بن محمد اپنے والد (محمد الباقر) سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوموار کے دن فوت ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جسد مبارک سوموار اور منگل کی رات تک (لوگوں کے درمیان) رہا اور پھر رات کو تدفین عمل میں آئی۔ راوی سفیان بن عینیہ اور دیگر فرماتے ہیں: ہم نے رات کے آخری حصہ میں پھاؤڑوں کی آواز سنی۔ [شمائل ترمذي/حدیث: 395]
قال الشيخ زبیر علی زئی: سنده ضعيف
تخریج: سنده ضعيف : اس روایت کی سند دو وجہ سے ضعیف ہے: ➊ مرسل یعنی منقطع ہے۔ امام محمد بن علی بن الحسین بن علی بن ابی طالب الباقر رحمہ اللہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت پیدا ہی نہیں ہوئے تھے، لہٰذا یہ روایت انھیں کس نے بتائی؟ یہ معلوم نہیں ہے۔ ➋ سفیان بن عیینہ مدلس تھے اور یہ روایت معنعن ہے، نیز دوسرے متن والا روای ”غیرہ“ مجہول ہے۔
منگل کی رات تدفین والی روایت ضعیف ہے
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، قَالَ: «تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ، وَدُفِنَ يَوْمَ الثُّلَاثَاءِ» قَالَ أَبُو عِيسَى: «هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ»
ابوسلمہ بن عبدالرحمن بن عوف فرماتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوموار کو فوت ہوئے اور منگل کے روز دفن کیے گئے۔ امام ابوعیسیٰ ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ حدیث غریب ہے۔ [شمائل ترمذي/حدیث: 396]
قال الشيخ زبیر علی زئی: سنده ضعيف
تخریج: سنده ضعيف : اس روایت کی سند امام ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن رحمہ اللہ مشہور تابعی تک صحیح یا حسن لذاتہ ہے، لیکن یہ روایت مرسل (منقطع) ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے اور اس طرح کی اور بھی مرسل روایتیں طبقات ابن سعد وغیرہ میں موجود ہیں، لیکن ہمارے علم کے مطابق کسی صحابی سے باسند صحیح یہ ثابت نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم مبارک کو دوسرے یا تیسرے دن دفن کیا گیا تھا۔ واللہ اعلم تنبیہ: اس سلسلے میں اسماعیل بن ابی خالد عن عبداللہ البہی، عوف الاعرابی عن الحسن البصری اور عکرمہ عن عباس رضی اللہ عنہ والی منقطع ومرسل روایات ضعیف، مردود اور باطل ہیں۔ تفصیل کے لئے طبقات ابن سعد اور سیر اعلام النبلاء (ترجمۃ وکیع بن الجراح) وغیرہما کتابوں کا مطالعہ کریں۔
سکرات الموت میں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو اپنی جگہ امامت کا حکم دیا
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ نُبَيْطٍ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ أَبِي هِنْدَ، عَنْ نُبَيْطِ بْنِ شَرِيطٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عُبَيْدٍ، وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ قَالَ: أُغْمِيَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ فَأَفَاقَ، فَقَالَ: «حَضَرَتِ الصَّلَاةُ» ؟ فَقَالُوا: نَعَمْ. فَقَالَ: «مُرُوا بِلَالًا فَلْيُؤَذِّنْ، وَمُرُوا أَبَا بَكْرٍ أَنْ يُصَلِّيَ للنَّاسِ» - أَوْ قَالَ: بِالنَّاسِ - قَالَ: ثُمَّ أُغْمِيَ عَلَيْهِ، فَأَفَاقَ، فَقَالَ: «حَضَرَتِ الصَّلَاةُ؟» فَقَالُوا: نَعَمْ. فَقَالَ: «مُرُوا بِلَالًا فَلْيُؤَذِّنْ، وَمُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ» ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: إِنَّ أَبِي رَجُلٌ أَسِيفٌ، إِذَا قَامَ ذَلِكَ الْمَقَامَ بَكَى فَلَا يَسْتَطِيعُ، فَلَوْ أَمَرْتَ غَيْرَهُ قَالَ: ثُمَّ أُغْمِيَ عَلَيْهِ فَأَفَاقَ فَقَالَ: «مُرُوا بِلَالًا فَلْيُؤَذِّنْ، وَمُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ، فَإِنَّكُنَّ صَوَاحِبُ أَوْ صَوَاحِبَاتُ يُوسُفَ» قَالَ: فَأُمِرَ بِلَالٌ فَأَذَّنَ، وَأُمِرَ أَبُو بَكْرٍ فَصَلَّى بِالنَّاسِ، ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ خِفَّةً، فَقَالَ: «انْظُرُوا لِي مَنْ أَتَّكِئِ عَلَيْهِ» ، فَجَاءَتْ بَرِيرَةُ وَرَجُلٌ آخَرُ، فَاتَّكَأَ عَلَيْهِمَا فَلَمَّا رَآهُ أَبُو بَكْرٍ ذَهَبَ لِينْكُصَ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ أَنْ يَثْبُتَ مَكَانَهُ، حَتَّى قَضَى أَبُو بَكْرٍ صَلَاتَهُ، ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُبِضَ، فَقَالَ عُمَرُ: وَاللَّهِ لَا أَسْمَعُ أَحَدًا يَذْكُرُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُبِضَ إِلَا ضَرَبْتُهُ بِسَيْفِي هَذَا قَالَ: وَكَانَ النَّاسُ أُمِّيِّينَ لَمْ يَكُنْ فِيهِمْ نَبِيٌّ قَبْلَهُ، فَأَمْسَكَ النَّاسُ، فَقَالُوا: يَا سَالِمُ، انْطَلِقْ إِلَى صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَادْعُهُ، فَأَتَيْتُ أَبَا بَكْرٍ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ فَأَتَيْتُهُ أَبْكِي دَهِشًا، فَلَمَّا رَآنِي قَالَ: أَقُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قُلْتُ: إِنَّ عُمَرَ يَقُولُ: لَا أَسْمَعُ أَحَدًا يَذْكُرُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُبِضَ إِلَا ضَرَبْتُهُ بِسَيْفِي هَذَا، فَقَالَ لِي: انْطَلِقْ، فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ، فَجَاءَ هُوَ وَالنَّاسُ قَدْ دَخَلُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، أَفْرِجُوا لِي، فَأَفْرَجُوا لَهُ فَجَاءَ حَتَّى أَكَبَّ عَلَيْهِ وَمَسَّهُ، فَقَالَ: {إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُمْ مَيِّتُونَ} [الزمر: 30] ثُمَّ قَالُوا: يَا صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَقُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَعَلِمُوا أَنْ قَدْ صَدَقَ، قَالُوا: يَا صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَيُصَلَّى عَلَى رَسُولِ اللَّهِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالُوا: وَكَيْفَ؟ قَالَ: يَدْخُلُ قَوْمٌ فَيُكَبِّرُونَ وَيُصَلُّونَ وَيَدْعُونَ، ثُمَّ يَخْرُجُونَ، ثُمَّ يَدْخُلُ قَوْمٌ فَيُكَبِّرُونَ وَيُصَلُّونَ وَيَدْعُونَ، ثُمَّ يَخْرُجُونَ، حَتَّى يَدْخُلَ النَّاسُ، قَالُوا: يَا صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَيُدْفَنُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالُوا: أَينَ؟ قَالَ: فِي الْمكَانِ الَّذِي قَبَضَ اللَّهُ فِيهِ رُوحَهُ، فَإِنَّ اللَّهَ لَمْ يَقْبِضْ رُوحَهُ إِلَا فِي مَكَانٍ طَيِّبٍ. فَعَلِمُوا أَنْ قَدْ صَدَقَ، ثُمَّ أَمَرَهُمْ أَنْ يَغْسِلَهُ بَنُو أَبِيهِ وَاجْتَمَعَ الْمُهَاجِرُونَ يَتَشَاوَرُونَ، فَقَالُوا: انْطَلِقْ بِنَا إِلَى إِخْوانِنَا مِنَ الْأَنْصَارِ نُدْخِلُهُمْ مَعَنَا فِي هَذَا الْأَمْرِ، فَقَالَتِ الْأَنْصَارُ: مِنَّا أَمِيرٌ وَمِنْكُمْ أَمِيرٌ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: مَنْ لَهُ مِثْلُ هَذِهِ الثَّلَاثِ {ثَانِيَ اثْنَيْنِ إِذْ هُمَا فِي الْغَارِ إِذْ يَقُولُ لِصَاحِبِهِ لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا} [التوبة: 40] مَنْ هُمَا؟ قَالَ: ثُمَّ بَسَطَ يَدَهُ فَبَايَعَهُ وَبَايَعَهُ النَّاسُ بَيْعَةً حَسَنَةً جَمِيلَةً
صحابی رسول سالم بن عبید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر آپ کی بیماری میں غشی طاری ہو گئی جب افاقہ ہوا تو فرمایا: ”کیا نماز کا وقت ہو گیا ہے؟“، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: جی ہاں، فرمایا: ”بلال کو حکم دو کہ وہ اذان کہیں، اور ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر بے ہوشی طاری ہو گئی۔ جب ہوش میں آئے تو فرمایا: ”کیا نماز کا وقت ہو گیا ہے؟“، عرض کیا گیا: جی ہاں۔ فرمایا: ”بلال کو حکم دو کہ وہ اذان کہے اور ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پھر بیہوشی طاری ہو گئی اور جب افاقہ ہوا تو فرمایا: ”کیا نماز کا وقت ہو گیا ہے؟“، عرض کیا گیا: جی ہاں۔ فرمایا: ”بلال کو حکم دو کہ وہ اذان کہے اور ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔“ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا عرض کرتی ہیں یا رسول اللہ! میرے والد رقیق القلب ہیں، جب وہ آپ کے مقام پر کھڑے ہوں گے تو رونے لگیں گے اور نماز پڑھانے کی طاقت نہیں رکھیں گے۔ آپ کسی اور کو حکم فرما دیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر بے ہوشی طاری ہو گئی۔ جب افاقہ ہوا تو فرمایا: ”بلال کو حکم دو کہ وہ اذان کہے اور ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ تم تو ان عورتوں کی طرح ہو جو یوسف علیہ السلام کے ساتھ تھیں۔“ چنانچہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا گیا تو انہوں نے اذان کہی اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو حکم دیا گیا تو انہوں نے لوگوں کو نماز پڑھائی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے وجود میں کچھ افاقہ اور کچھ ہلکا پن محسوس کیا تو فرمایا: ”کوئی آدمی دیکھو! جس پر میں ٹیک لگاؤں۔“ تو بریرہ (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خادمہ) اور دوسرا شخص آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں پر ٹیک لگا کر نکلے۔ جب سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے آپ کو دیکھا تو واپس پیچھے مڑنے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ کیا کہ اپنی جگہ پر ہی رہو۔ یہاں تک کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے نماز پوری کر لی۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ ”جو شخص یہ کہے گا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی ہے تو میں اپنی اس تلوار سے اس کی گردن اتار دوں گا۔“ راوی بیان کرتا ہے کہ اکثر لوگ امی تھے اور اس سے پہلے ان میں کوئی نبی مبعوث نہیں ہوا تھا۔ لہٰذا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی بات پر سب خاموش ہو گئے، پھر بعض لوگوں نے سیدنا سالم رضی اللہ عنہ کو کہا: جاؤ! اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی (سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ) کو بلا لاؤ۔ سیدنا سالم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس دہشت کے مارے روتا ہوا پہنچا وہ اس وقت مسجد میں تھے۔ جب انہوں نے مجھے آتے ہوئے دیکھا تو پوچھا، کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی ہے؟ میں نے کہا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں کسی شخص کو یہ کہتے ہوئے نہیں سننا چاہتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے ہیں۔ جو ایسا کہے گا میں اپنی اس تلوار سے اس کی گردن اڑا دوں گا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ مجھ سے فرمانے لگے چلو چلتے ہیں۔ چنانچہ میں ان کے ہمراہ چل پڑا۔ جب آپ تشریف لائے تو لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مکان پر جمع ہو چکے تھے۔ آپ نے فرمایا: لوگو! مجھے راستہ دو، چنانچہ لوگوں نے آپ کے لیے راستہ خالی کر دیا۔ آپ آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھک گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوا (بوسہ دیا) اور یہ آیت پڑھی «إنك ميت وإنهم ميتون» ”بے شک آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) بھی فوت ہونے والے ہیں اور یہ لوگ بھی فوت ہونے والے ہیں۔“ لوگوں نے کہا: اے رسول اللہ کے ساتھی! کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے ہیں؟ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہاں۔ لوگوں کو یقین آ گیا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سچ فرمایا ہے۔ پھر لوگ کہنے لگے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی! کیا ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جنازہ بھی پڑھیں گے؟ فرمایا: ہاں۔ تو انہوں نے عرض کیا: کیسے؟ فرمایا: ایک جماعت حجرہ کے اندر جائے، وہ تکبیر کہے، دعا کرے اور آپ پر درود پڑھ کر باہر آ جائے، پھر دوسری جماعت داخل ہو، وہ تکبیر کہے، درود پڑھے اور دعا کر کے باہر آ جائے۔ اس طرح سب لوگ نماز جنازہ پڑھیں۔ پھر لوگوں نے پوچھا: اے صاحب رسول! کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دفن کیا جائے گا؟ فرمایا: ہاں۔ پوچھا کس جگہ؟ فرمایا: اسی جگہ جہاں آپ کی روح قبض کی گئی ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی روح کو پاکیزہ جگہ پر ہی قبض کیا ہے۔ لوگوں کو یقین ہو گیا کہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے سچ کہا ہے۔ پھر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حکم دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی غسل دیں۔ اس دوران میں مہاجرین جمع ہو کر (امر خلافت کے بارے میں) مشورہ کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا: آؤ! اپنے انصاری بھائیوں کے پاس بھی چلیں تاکہ انہیں بھی اس معاملہ میں اپنے ساتھ شریک کر لیں۔ (جب ان کے پاس گئے) تو انہوں نے کہا: ایک امیر ہم میں سے اور ایک امیر تم میں سے ہو گا۔ اس کے جواب میں سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ کون شخص ہے جو ان تین فضائل سے متصف ہو (جن کو اللہ تعالیٰ نے ایک ہی آیت میں بیان کر دیا ہے) ① دو میں سے دوسرا جبکہ وہ دونوں غار میں تھے ② جب کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھی سے فرمایا، خوف نہ کھاؤ ③ بے شک اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ یہ دونوں کون تھے؟ راوی بیان کرتا ہے، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنا ہاتھ بڑھا کر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کی۔ پھر دوسرے لوگوں نے بھی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر نہایت اچھی اور خوش اسلوبی سے بیعت کی۔ [شمائل ترمذي/حدیث: 397]
قال الشيخ زبیر علی زئی: سنده صحيح
تخریج: سنده صحيح : سنن ابن ماجه (1234)، السنن الكبريٰ للنسائي (7119 مطولا) كلاهما عن نصر بن على به، صحيح ابن خزيمه (1541، 1624) وصححه البوصيري فى الزوائد.
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری لمحات میں سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے دردناک الفاظ
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ، شَيْخٌ بَاهِلِيٌّ قَدِيمٌ بَصْرِيٌّ، قَالَ: حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: لَمَّا وَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ كُرَبِ الْمَوْتِ مَا وَجَدَ، قَالَتْ فَاطِمَةُ: وَاكَرْبَاهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا كَرْبَ عَلَى أَبِيكِ بَعْدَ الْيَوْمِ، إِنَّهُ قَدْ حَضَرَ مِنْ أَبِيكِ مَا لَيْسَ بِتَارِكٍ مِنْهُ أَحَدًا الْمُوافَاةُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مرض الوفات میں سخت تکلیف برداشت فرما رہے تھے تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا فرمانے لگیں: ہائے میرے باپ کی تکلیف۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آج کے بعد تیرے والد کو کوئی تکلیف نہ ہوگی۔ یقیناً تیرے باپ پر وہ وقت آ گیا جو کسی ایک کو نہیں چھوڑتا اب قیامت کے دن ہی ملاقات ہوگی۔“ [شمائل ترمذي/حدیث: 398]
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج: حسن : سنن ابن ماجه (1629)
میری امت کو میری وفات کا غم آل و اولاد سب سے زیادہ ہے
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو الْخَطَّابِ زِيَادُ بْنُ يَحْيَى الْبَصْرِيُّ، وَنَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ رَبِّهِ بْنُ بَارِقٍ الْحَنَفِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ جَدِّي أَبَا أُمِّي سِمَاكَ بْنَ الْوَلِيدِ، يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ، يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ كَانَ لَهُ فَرَطَانِ مِنْ أُمَّتِي أَدْخَلَهُ اللَّهُ تَعَالَى بِهِمَا الْجَنَّةَ» ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: فَمَنْ كَانَ لَهُ فَرَطٌ مِنْ أُمَّتِكَ؟ قَالَ: «وَمَنْ كَانَ لَهُ فَرَطٌ يَا مُوَفَّقَةُ» قَالَتْ: فَمَنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ فَرَطٌ مِنْ أُمَّتِكَ؟ قَالَ: «فَأَنَا فَرَطٌ لِأُمَّتِي، لَنْ يُصَابُوا بِمِثْلِي»
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت میں سے جس شخص کے دو نابالغ بچے فوت ہو جائیں، اللہ تعالیٰ اس کو ان دونوں کے بدلہ میں جنت میں داخل کرے گا۔“ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا عرض کرتی ہیں: اللہ کے رسول! آپ کی امت میں سے جس کا ایک بچہ فوت ہو جائے؟ فرمایا: ”ہاں! جس کا ایک بچہ بھی فوت ہو جائے۔ اے وہ خاتون جس کو اچھی بات کی توفیق نصیب ہوئی۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے پھر عرض کیا: اور جس کا ایک بھی نابالغ بچہ فوت نہ ہوا ہو؟، فرمایا: ”میں اپنی امت کے ہر اس شخص کا پیش رو (سفارش کنندہ) ہوں گا جنہوں نے میری جدائی کے صدمہ جیسا کوئی بھی صدمہ دنیا میں نہیں پایا۔“ [شمائل ترمذي/حدیث: 399]
قال الشيخ زبیر علی زئی: سنده حسن
تخریج: سنده حسن : (سنن ترمذي: 1062، وقال: حسن غريب)، مسند احمد (334/1)
← پچھلی کتاب #53 فہرست کتب (All Books) اگلی کتاب #55 →