صحيح مسلم حدیث نمبر: 818
🌍 صحيح مسلم حدیث نمبر: 368.01
📖 صحيح مسلم باب:3 حدیث نمبر : 139
Sahih Muslim 818
کتاب #3: حیض کے احکام و مسائل
28: باب التَّيَمُّمِ:
باب: تیمم کا بیان۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ جميعا، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقٍ ، قَالَ: " كُنْتُ جَالِسًا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ ، وَأَبِي مُوسَى ، فَقَالَ أَبُو مُوسَى: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ رَجُلًا أَجْنَبَ فَلَمْ يَجِدِ الْمَاءَ شَهْرًا، كَيْفَ يَصْنَعُ بِالصَّلَاةِ؟ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: لَا يَتَيَمَّمُ وَإِنْ لَمْ يَجِدِ الْمَاءَ شَهْرًا، فَقَالَ أَبُو مُوسَى: فَكَيْفَ بِهَذِهِ الآيَةِ فِي سُورَةِ الْمَائِدَةِ فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا سورة المائدة آية 6، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: لَوْ رُخِّصَ لَهُمْ فِي هَذِهِ الآيَةِ، لَأَوْشَكَ إِذَا بَرَدَ عَلَيْهِمُ الْمَاءُ، أَنْ يَتَيَمَّمُوا بِالصَّعِيدِ، فَقَالَ أَبُو مُوسَى لِعَبْدِ اللَّهِ: أَلَمْ تَسْمَعْ قَوْلَ عَمَّارٍ ، بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ، فَأَجْنَبْتُ، فَلَمْ أَجِدِ الْمَاءَ، فَتَمَرَّغْتُ فِي الصَّعِيدِ كَمَا تَمَرَّغُ الدَّابَّةُ، ثُمَّ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ أَنْ تَقُولَ بِيَدَيْكَ هَكَذَا، ثُمَّ ضَرَبَ بِيَدَيْهِ الأَرْضَ ضَرْبَةً وَاحِدَةً، ثُمَّ مَسَحَ الشِّمَالَ عَلَى الْيَمِينِ وَظَاهِرَ كَفَّيْهِ وَوَجْهَهُ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: أَوَلَمْ تَرَ عُمَرَ لَمْ يَقْنَعْ بِقَوْلِ عَمَّارٍ.
ابو معاویہ نے اعمش سے ، انہوں نے شقیق سے روایت کی ، کہا : میں حضرت عبد اللہ ( بن مسعود ) اور ابو موسیٰ ؓ کے بیٹھا ہوا تھا ۔ حضرت ابو موسیٰ نے پوچھا : ابو عبد الرحمن! بتائیےاگر انسان حالت جنابت میں ہو اور ایک ماہ تک اسے پانی نہ ملے تو وہ نماز کا کیا کرے؟ اس پر حضرت عبد اللہ ( بن مسعود رضی اللہ عنہ ) نے جواب دیا : وہ تیمم نہ کرے ، چاہے اسے ایک ماہ تک پانی نہ ملے ۔ اس پر ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا : تو سورہ مائدہ کی اس آیت کا کیا مطلب ہے : ’’تم پانی نہ پاؤ تو پاک مٹی سے تیمم کرو؟ ‘ ‘ اس پر عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : اگر انہیں اس آیت کی بنا پر رخصت دے دی گئی تو خطرہ ہے جب انہیں پانی ٹھنڈا محسوس ہو گا تو وہ مٹی سے تیمم کر لیں گے ۔ ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے کہا : کیا آپ نے عمار کی یہ بات نہیں سنی کہ مجھے رسول اللہﷺ نے کسی کام کے لیے بھیجا ، مجھے جنابت ہو گئی اور پانی نہ ملا تو میں چوپائے کی طرح مٹی میں لوٹ پوٹ ہوا ( اور نماز پڑھ لی ) ، پھر میں نبی اکرمﷺ کے پاس آیا اور آپ سے اس کا تذکرہ کیا تو آپ نے فرمایا : ’’تمہارے لیے بس اپنے دونوں ہاتھوں سے اس طرح کرنا کافی تھا ۔ ‘ ‘ پھر آپﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ ایک بار زمین پر مارے ، پھر بائیں ہاتھ کو دائیں پر اور اپنی دونوں ہتھیلیوں کی پشت پر اور اپنے چہرے پر ملا ۔ تو عبد اللہ ( بن مسعود رضی اللہ عنہ ) نے جواب دیا : کیا تمہیں معلوم نہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ عمار کی بات پر مطمئن نہیں ہوئے تھے ۔ ( تفصیل آگے حدیث : 820 میں ہے ۔)