صحيح مسلم حدیث نمبر: 756
🌍 ترقیم فواد عبد الباقی: 334.1
Sahih Muslim 756
کتاب #3: حیض کے احکام و مسائل
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، وَعَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ جَحْشٍ، خَتَنَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَتَحْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، اسْتُحِيضَتْ سَبْعَ سِنِينَ، فَاسْتَفْتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ هَذِهِ لَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ وَلَكِنَّ هَذَا عِرْقٌ، فَاغْتَسِلِي وَصَلِّي "، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَكَانَتْ تَغْتَسِلُ فِي مِرْكَنٍ فِي حُجْرَةِ أُخْتِهَا زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، حَتَّى تَعْلُوَ حُمْرَةُ الدَّمِ الْمَاءَ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: فَحَدَّثْتُ بِذَلِكَ أَبَا بَكْرِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، فَقَالَ: يَرْحَمُ اللَّهُ هِنْدًا، لَوْ سَمِعَتْ بِهَذِهِ الْفُتْيَا، وَاللَّهِ إِنْ كَانَتْ لَتَبْكِي، لِأَنَّهَا كَانَتْ لَا تُصَلِّي.
(لیث کے بجائے) عمرو بن حارث نے ابن شہاب سے، انہوں نے عروہ بن زبیر اور عمرہ بنت عبدالرحمن سے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ ام حبیبہ بنت جحش رضی اللہ عنہا، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہر نسبتی اور (ام المؤمنین زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کی بہن اور) عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی بیوی تھیں، سات سال تک استحاضہ کا عارضہ لاحق رہا۔ انہوں نے اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فتویٰ دریافت کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ حیض (کا خون) نہیں بلکہ یہ ایک رگ (کا خون) ہے، لہٰذا تم غسل کرو اور نماز پڑھو۔“ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: وہ اپنی بہن زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے حجرے میں ایک بڑے تشت (ٹب) میں غسل کرتیں تو پانی پر خون کی سرخی غالب آ جاتی۔ ابن شہاب نے کہا: میں نے یہ حدیث ابوبکر بن عبدالرحمن بن حارث کو سنائی تو انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ ہند پر رحم فرمائے! کاش وہ بھی یہ فتویٰ سن لیتیں۔ اللہ کی قسم! وہ اس بات پر روتی رہتی تھیں کہ استحاضے کی وجہ سے وہ نماز نہیں پڑھ سکتی تھیں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 756]