صحيح مسلم حدیث نمبر: 7519
🌍 ترقیم فواد عبد الباقی: 3013
Sahih Muslim 7519
کتاب #53: زہد اور رقت انگیز باتیں
قَالَ: فَأَتَيْنَا الْعَسْكَرَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا جَابِرُ نَادِ بِوَضُوءٍ، فَقُلْتُ: أَلَا وَضُوءَ أَلَا وَضُوءَ أَلَا وَضُوءَ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا وَجَدْتُ فِي الرَّكْبِ مِنْ قَطْرَةٍ، وَكَانَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ يُبَرِّدُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَاءَ فِي أَشْجَابٍ لَهُ عَلَى حِمَارَةٍ مِنْ جَرِيدٍ، قَالَ: فَقَالَ لِيَ: انْطَلِقْ إِلَى فُلَانِ ابْنِ فُلَانٍ الْأَنْصَارِيِّ، فَانْظُرْ هَلْ فِي أَشْجَابِهِ مِنْ شَيْءٍ؟، قَالَ: فَانْطَلَقْتُ إِلَيْهِ، فَنَظَرْتُ فِيهَا فَلَمْ أَجِدْ فِيهَا إِلَّا قَطْرَةً فِي عَزْلَاءِ شَجْبٍ مِنْهَا لَوْ أَنِّي أُفْرِغُهُ لَشَرِبَهُ يَابِسُهُ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي لَمْ أَجِدْ فِيهَا إِلَّا قَطْرَةً فِي عَزْلَاءِ شَجْبٍ مِنْهَا لَوْ أَنِّي أُفْرِغُهُ لَشَرِبَهُ يَابِسُهُ، قَالَ: اذْهَبْ، فَأْتِنِي بِهِ، فَأَتَيْتُهُ بِهِ، فَأَخَذَهُ بِيَدِهِ فَجَعَلَ يَتَكَلَّمُ بِشَيْءٍ لَا أَدْرِي مَا هُوَ وَيَغْمِزُهُ بِيَدَيْهِ ثُمَّ أَعْطَانِيهِ، فَقَالَ يَا جَابِرُ: نَادِ بِجَفْنَةٍ، فَقُلْتُ: يَا جَفْنَةَ الرَّكْبِ، فَأُتِيتُ بِهَا تُحْمَلُ، فَوَضَعْتُهَا بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ فِي الْجَفْنَةِ هَكَذَا، فَبَسَطَهَا وَفَرَّقَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ ثُمَّ وَضَعَهَا فِي قَعْرِ الْجَفْنَةِ، وَقَالَ: خُذْ يَا جَابِرُ فَصُبَّ عَلَيَّ، وَقُلْ بِاسْمِ اللَّهِ فَصَبَبْتُ عَلَيْهِ، وَقُلْتُ: بِاسْمِ اللَّهِ، فَرَأَيْتُ الْمَاءَ يَفُورُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ فَارَتِ الْجَفْنَةُ وَدَارَتْ حَتَّى امْتَلَأَتْ، فَقَالَ يَا جَابِرُ: نَادِ مَنْ كَانَ لَهُ حَاجَةٌ بِمَاءٍ، قَالَ: فَأَتَى النَّاسُ، فَاسْتَقَوْا حَتَّى رَوُوا، قَالَ: فَقُلْتُ: هَلْ بَقِيَ أَحَدٌ لَهُ حَاجَةٌ؟، فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ مِنَ الْجَفْنَةِ وَهِيَ مَلْأَى،
(حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے) کہا: پھر ہم لشکر کے پاس آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جابر! وضو کے پانی کے لیے آواز دو۔“ تو میں نے (ہر جگہ پکار کر) کہا: کیا وضو کا پانی نہیں ہے؟ کیا وضو کا پانی نہیں ہے؟ کیا وضو کا پانی نہیں ہے؟ کہا: میں نے عرض کی: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم مجھے قافلے میں ایک قطرہ (پانی) نہیں ملا۔ انصار میں سے ایک آدمی تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اپنے پُرانے مشکیزے میں پانی ڈال کر اسے کھجور کی ٹہنی (سے بنی ہوئی) کھونٹی سے لٹکا کر ٹھنڈا کیا کرتا تھا۔ (جابر رضی اللہ عنہ نے) کہا: آپ نے مجھ سے فرمایا: ”فلاں بن فلاں انصاری کے پاس جاؤ اور دیکھو اس کے پُرانے مشکیزے میں کچھ ہے؟“ کہا: میں کیا، اس کے اندر دیکھا تو مجھے اس (مشکیزے) کے منہ والی جگہ پر ایک قطرے کے سوا کچھ نظر نہ آیا۔ اگر میں اسے (دوسرے برتن میں) نکالتا تو اس کا خشک حصہ اسے پی لیتا۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور عرض کی: اللہ کے رسول! مجھے اس (مشکیزے) کے منہ میں پانی کے ایک قطرے کے سوا کچھ نہیں ملا۔ اگر میں اسے انڈیلوں تو اس کا خشک حصہ اسے پی لے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ اسے میرے پاس لے آؤ۔“ میں اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آیا۔ آپ نے اسے ہاتھ میں پکڑا اور کچھ کہنا شروع کیا مجھے پتہ نہ چلا کہ آپ نے کیا کہا اور اس (مشکیزے) کو اپنے دونوں ہاتھوں میں دبانے اور حرکت دینے لگے، پھر آپ نے مجھے وہ دے دیا تو فرمایا: ”جابر! پانی (پلانے) کا بڑا برتن منگواؤ۔“ میں نے آواز دی: سواروں کا بڑا برتن (ٹب) لاؤ۔ اسے اٹھا کر میرے پاس لایا گیا تو میں نے اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھ دیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا مبارک ہاتھ پیالے میں اس طرح کیا، اسے پھیلایا اور اپنی انگلیاں الگ الگ کیں پھر اسے برتن کی تہہ میں رکھا اور فرمایا: ”جابر! میرے ہاتھ پر پانی انڈیل دو اور بسم اللہ پڑھو!“ میں نے اسے آپ (کے ہاتھ) پر انڈیلا اور کہا: بسم اللہ۔ میں نے پانی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کے درمیان سے پھوٹتے ہوئے دیکھا، پھر وہ بڑا برتن (پانی کے جوش سے) زور سے امڈنے اور گھومنے لگا۔ یہاں تک کہ پورا بھر گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جابر! جس جس کو پانی کی ضرورت ہے اسے آواز دو۔“ کہا: لوگ آئے اور پانی لیا، یہاں تک کہ سب کی ضرورت پوری ہو گئی، کہا: میں نے اعلان کیا کوئی باقی ہے جسے (پانی کی) ضرورت ہو؟ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے برتن سے اپنا ہاتھ اٹھایا تو وہ (اسی طرح) بھرا ہوا تھا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7519]