صحيح مسلم حدیث نمبر: 7501
🌍 ترقیم فواد عبد الباقی: 3000
Sahih Muslim 7501
کتاب #53: زہد اور رقت انگیز باتیں
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: مَدَحَ رَجُلٌ رَجُلًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَقَالَ: " وَيْحَكَ قَطَعْتَ عُنُقَ صَاحِبِكَ، قَطَعْتَ عُنُقَ صَاحِبِكَ مِرَارًا، إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ مَادِحًا صَاحِبَهُ لَا مَحَالَةَ، فَلْيَقُلْ: أَحْسِبُ فُلَانًا وَاللَّهُ حَسِيبُهُ، وَلَا أُزَكِّي عَلَى اللَّهِ أَحَدًا أَحْسِبُهُ، إِنْ كَانَ يَعْلَمُ ذَاكَ كَذَا وَكَذَا ".
یزید بن زریع نے خالد حذاء سے، انہوں نے عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک آدمی نے دوسرے آدمی کی تعریف کی، کہا: تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم پر افسوس ہے! تم نے اپنے ساتھی کی گردن کاٹ دی، اپنے ساتھی کی گردن کاٹ دی۔“ کئی بار کہا: (پھر فرمایا:) تم میں سے کسی شخص نے لامحالہ اپنے ساتھی کی تعریف کرنی ہو تو اس طرح کہے: میں فلاں کو ایسا سمجھتا ہوں، اصلیت کو جاننے والا اللہ ہے۔ اور میں اللہ (کے علم) کے مقابلے میں کسی کی خوبی بیان نہیں کر رہا، میں اسے (ایسا) سمجھتا ہوں۔ اگر وہ واقعی اس خوبی کو جانتا ہے (تو کہے!) وہ اس طرح (کی خوبی رکھتا) ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 7501]