صحيح مسلم حدیث نمبر: 750
🌍 صحيح مسلم حدیث نمبر: 332.03
📖 صحيح مسلم باب:3 حدیث نمبر : 72
Sahih Muslim 750
کتاب #3: حیض کے احکام و مسائل
13: باب اسْتِحْبَابِ اسْتِعْمَالِ الْمُغْتَسِلَةِ مِنَ الْحَيْضِ فِرْصَةً مِنْ مِسْكٍ فِي مَوْضِعِ الدَّمِ:
باب: حائضہ کا غسل کرنے کے بعد مشک لگا روئی کا ٹکڑا خون کی جگہ میں استعمال کرنا مستحب ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْمُهَاجِرِ ، قَالَ: سَمِعْتُ صَفِيَّةَ تُحَدِّثُ، عَنْ عَائِشَةَ ، " أَنَّ أَسْمَاءَ، سَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ غُسْلِ الْمَحِيضِ؟ فَقَالَ: تَأْخُذُ إِحْدَاكُنَّ مَاءَهَا وَسِدْرَتَهَا، فَتَطَهَّرُ فَتُحْسِنُ الطُّهُورَ، ثُمَّ تَصُبُّ عَلَى رَأْسِهَا، فَتَدْلُكُهُ دَلْكًا شَدِيدًا، حَتَّى تَبْلُغَ شُئُونَ رَأْسِهَا، ثُمَّ تَصُبُّ عَلَيْهَا الْمَاءَ، ثُمَّ تَأْخُذُ فِرْصَةً مُمَسَّكَةً، فَتَطَهَّرُ بِهَا، فَقَالَتْ أَسْمَاءُ: وَكَيْفَ تَطَهَّرُ بِهَا؟ فَقَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ، تَطَهَّرِينَ بِهَا، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: كَأَنَّهَا تُخْفِي ذَلِكَ، تَتَبَّعِينَ أَثَرَ الدَّمِ، وَسَأَلَتْهُ عَنْ غُسْلِ الْجَنَابَةِ، فَقَالَ: تَأْخُذُ مَاءً، فَتَطَهَّرُ، فَتُحْسِنُ الطُّهُورَ، أَوْ تُبْلِغُ الطُّهُورَ، ثُمَّ تَصُبُّ عَلَى رَأْسِهَا، فَتَدْلُكُهُ حَتَّى تَبْلُغَ شُئُونَ رَأْسِهَا، ثُمَّ تُفِيضُ عَلَيْهَا الْمَاءَ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: نِعْمَ النِّسَاءُ، نِسَاءُ الأَنْصَارِ، لَمْ يَكُنْ يَمْنَعُهُنَّ الْحَيَاءُ أَنْ يَتَفَقَّهْنَ فِي الدِّينِ "،
محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے ابراہیم بن مہاجر سے حدیث سنائی ، انہوں نےکہا : میں نے صفیہ سے سنا وہ حضرت عائشہؓ سے بیان کرتی تھیں کہ اسما ( بنت کشل انصاریہ ) ؓ نے نبی ﷺ سے غسل حیض کےبارے میں سوال کیا ؟ تو آپ نے فرمایا : ’’ایک عورت اپنا پانی او ربیری کے پتے لے کر اچھی طرح پاکیزگی حاصل کرے ، پھر سر پر پانی ڈال کر اس کو اچھی طرح ملے یہاں تک کہ بالوں کی جڑوں تک پہنچ جائے ، پھر اپنے اوپر پانی ڈالے ، پھر کستوری لگا کپڑے یا روئی کا ٹکڑا لے کر اس سے پاکیزگی حاصل کرے ۔ ‘ ‘ ‘ تو اسماء نے کہا : اس سے پاکیزگی کیسے حاصل کروں؟ آپ نے فرمایا : ’’سبحان اللہ ! اسے پاکیزگی حاصل کرو ۔ ‘ ‘ حضرت عائشہؓ نے کہا : ( جیسے وہ اس بات کو چھپا رہی ہوں ) ’’خون کے نشان پر لگا کر ۔ ‘ ‘ اور اس نے آپ سے غسل جنابت کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا : ’’ ( غسل کرنے والی ) پانی لے کر اس سے خوب اچھی طرح وضو کرے ، پھر سر پر پانی ڈال کر اسے ملے حتی کہ سر کے بالوں کی جڑوں تک پہنچ جائے ، پھر اپنے آپ پر پانی ڈالے ۔ ‘ ‘ حضرت عائشہ ؓ نے کہا : انصار کی عورتیں بہت خوب ہیں ، دین کو اچھی طرح سمجھنے سے شرم ا نہیں نہیں روکتی ۔