📖 صحيح مسلم • فہرست کتب (Book Index) ↗

صحيح مسلم - حدیث نمبر 7483

Sahih Muslim Hadith 7483 (صَحِيحُ مُسْلِمٍ)
کتاب #53 📁 زہد اور رقت انگیز باتیں (كِتَاب الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ) ← 🏷️ باب: جو شخص اوروں کو نصحیت کرے اور خود عمل نہ کرے اس کا عذاب۔
عربی:
اردو:
صحيح مسلم حدیث نمبر: 7483 🌍 ترقیم فواد عبد الباقی: 2989 Sahih Muslim 7483
کتاب #53: زہد اور رقت انگیز باتیں
7: باب عُقُوبَةِ مَنْ يَأْمُرُ بِالْمَعْرُوفِ وَلاَ يَفْعَلُهُ وَيَنْهَى عَنِ الْمُنْكَرِ وَيَفْعَلُهُ:
🏷️ باب: جو شخص اوروں کو نصحیت کرے اور خود عمل نہ کرے اس کا عذاب۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لِأَبِي كُرَيْبٍ، قَالَ يَحْيَى، وَإِسْحَاقُ: أَخْبَرَنَا، وقَالَ الْآخَرُونَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ: قِيلَ لَهُ: أَلَا تَدْخُلُ عَلَى عُثْمَانَ فَتُكَلِّمَهُ، فَقَالَ: أَتَرَوْنَ أَنِّي لَا أُكَلِّمُهُ إِلَّا أُسْمِعُكُمْ، وَاللَّهِ لَقَدْ كَلَّمْتُهُ فِيمَا بَيْنِي وَبَيْنَهُ، مَا دُونَ أَنْ أَفْتَتِحَ أَمْرًا لَا أُحِبُّ أَنْ أَكُونَ أَوَّلَ مَنْ فَتَحَهُ، وَلَا أَقُولُ لِأَحَدٍ يَكُونُ عَلَيَّ أَمِيرًا، إِنَّهُ خَيْرُ النَّاسِ بَعْدَ مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " يُؤْتَى بِالرَّجُلِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيُلْقَى فِي النَّارِ، فَتَنْدَلِقُ أَقْتَابُ بَطْنِهِ، فَيَدُورُ بِهَا كَمَا يَدُورُ الْحِمَارُ بِالرَّحَى، فَيَجْتَمِعُ إِلَيْهِ أَهْلُ النَّارِ، فَيَقُولُونَ يَا فُلَانُ: مَا لَكَ أَلَمْ تَكُنْ تَأْمُرُ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَى عَنِ الْمُنْكَرِ؟، فَيَقُولُ: بَلَى، قَدْ كُنْتُ آمُرُ بِالْمَعْرُوفِ وَلَا آتِيهِ وَأَنْهَى عَنِ الْمُنْكَرِ وَآتِيهِ "،
ابومعاویہ نے کہا: ہمیں اعمش نے شقیق سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: کہ ان سے کہا گیا: تم کیوں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس جا کر بات نہیں کرتے؟ (کہ وہ لوگوں کی مخالفت کا ازالہ کریں) تو انہوں نے کہا: کیا تم سمجھتے ہو کہ میں تمھیں نہیں سنواتا تو میں ان سے بات نہیں کرتا؟ اللہ کی قسم! میں نے ان سے بات کی جو میرے اور ان کے درمیان تھی اس کے بغیر کہ میں کسی ایسی بات کا آغاز کروں جس میں سب سے پہلے دروازہ کھولنے والا میں بنوں۔ میں کسی سے جو مجھ پر امیر ہو یہ نہیں کہتا کہ وہ سب انسانوں میں سے بہتر ہے۔ اس بات کے بعد جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی، آپ فرما رہے تھے: ”قیامت کے دن ایک آدمی کو لایا جائے گا اور آگ میں پھینک دیا جائے گا، اس کے پیٹ کی انتڑیاں باہر نکل پڑیں گی۔ وہ ان کے گرد اس طرح چکر لگائے گا جس طرح گدھا چکی کے گرد لگاتا ہے۔ اہل جہنم اس کے پاس جمع ہو جائیں گے اور اس سے کہیں گے: فلاں! تمھارے ساتھ کیا ہوا؟ کیا تو نیکیوں کی تلقین اور برائیوں سے منع نہیں کیا کرتا تھا؟ وہ کہے گا: ایسا ہی تھا، میں نیکیوں کا حکم دیتا تھا، خود (نیکی کے کام) نہیں کرتا تھا اور برائیوں سے روکتا تھا اور خود ان کا ارتکاب کرتا تھا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 7483]
صحيح مسلم • حدیث #7483
7481 7482 7483 7484 7485

📖 اسی باب کی مزید احادیث (Related Hadiths)

#7484 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِل...
جریر نے اعمش سے اور انہوں نے ابووائل سے روایت کی، کہا: ہم حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے پاس تھے کہ ایک آدمی نے کہا: ...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ