صحيح مسلم حدیث نمبر: 7387
🌍 صحيح مسلم حدیث نمبر: 2942.02
📖 صحيح مسلم باب:54 حدیث نمبر : 148
Sahih Muslim 7387
کتاب #52: فتنے اور علامات قیامت
24: باب قِصَّةِ الْجَسَّاسَةِ:
باب: دجال کے جاسوس کا بیان۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ الْهُجَيْمِيُّ أَبُو عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ ، حَدَّثَنَا سَيَّارٌ أَبُو الْحَكَمِ ، حَدَّثَنَا الشَّعْبِيُّ ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ ، فَأَتْحَفَتْنَا بِرُطَبٍ، يُقَالُ لَهُ: رُطَبُ ابْنِ طَابٍ وَأَسْقَتْنَا سَوِيقَ سُلْتٍ، فَسَأَلْتُهَا عَنِ الْمُطَلَّقَةِ ثَلَاثًا أَيْنَ تَعْتَدُّ، قَالَتْ: طَلَّقَنِي بَعْلِي ثَلَاثًا، فَأَذِنَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَعْتَدَّ فِي أَهْلِي، قَالَتْ: فَنُودِيَ فِي النَّاسِ إِنَّ الصَّلَاةَ جَامِعَةً، قَالَتْ: فَانْطَلَقْتُ فِيمَنِ انْطَلَقَ مِنَ النَّاسِ، قَالَتْ: فَكُنْتُ فِي الصَّفِّ الْمُقَدَّمِ مِنَ النِّسَاءِ وَهُوَ يَلِي الْمُؤَخَّرَ مِنَ الرِّجَالِ، قَالَتْ: فَسَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَخْطُبُ، فَقَالَ: إِنَّ بَنِي عَمٍّ لِتَمِيمٍ الدَّارِيِّ رَكِبُوا فِي الْبَحْرِ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ وَزَادَ فِيهِ، قَالَتْ: فَكَأَنَّمَا أَنْظُرُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَهْوَى بِمِخْصَرَتِهِ إِلَى الْأَرْضِ، وَقَالَ: هَذِهِ طَيْبَةُ يَعْنِي الْمَدِينَةَ،
سیار ابو الحکم نے کہا : ہمیں شعبی نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں شعبی نے حدیث بیان کی ، کہا : ہم حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاں گئے ، انھوں نے ہمیں تازہ کھجوروں کاتحفہ دیا جن کو ابن طاب کی تازہ کھجوریں کہا جاتا تھا اور جو کے ستو پلائے ، میں نے ان سے ا س عورت کے بارے میں پوچھا جس کو تین طلاقیں دی گئی ہوں کہ وہ عدت کہاں گزارے گی؟انھوں نے کہا : مجھے میرے شوہر نے تین طلاقیں دی تھیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اجازت دی تھی کہ میں انے گھر والوں کے درمیان عدت گزار لوں ، ( حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) کہا : پھر ( عدت کے بعد ) لوگوں میں یہ اعلان کیا گیا کہ نماز کی جماعت ہونے والی ہے ، میں بھی دوسرے لوگوں کے ساتھ نماز کے لئے چل دی ، میں عورتوں کی پہلی صف میں تھی جو مردوں کی آخری صف کے پیچھے تھی ۔ انھوں نے کہا : میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ منبر پرخطبہ دے رہے تھے ، آپ نے فرمایا : " تمیم داری کے چچا کے بیٹے ( ان کے قبیلے سے تعلق رکھنے والے رشتہ دار ) سمندر ( کے جہاز ) میں سوار ہوئے ۔ " اسکے بعد ( سیار نے پوری ) حدیث بیان کی اور اس میں مزید کہا کہ ( حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) کہا : ایسے لگتا ہے کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہی ہوں ، آپ نے اپنے عصا کو زمین کی طرف جھکایا اور فرمایا : " یہ طیبہ ہے ۔ " آپ کی مراد مدینہ سے تھی ۔