صحيح مسلم حدیث نمبر: 7355
🌍 ترقیم فواد عبد الباقی: 2931
Sahih Muslim 7355
کتاب #52: فتنے اور علامات قیامت
وَقَالَ سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: انْطَلَقَ بَعْدَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ الْأَنْصَارِيُّ إِلَى النَّخْلِ الَّتِي فِيهَا ابْنُ صَيَّادٍ، حَتَّى إِذَا دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّخْلَ طَفِقَ يَتَّقِي بِجُذُوعِ النَّخْلِ، وَهُوَ يَخْتِلُ أَنْ يَسْمَعَ مِنْ ابْنِ صَيَّادٍ شَيْئًا قَبْلَ أَنْ يَرَاهُ ابْنُ صَيَّادٍ، فَرَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُضْطَجِعٌ عَلَى فِرَاشٍ فِي قَطِيفَةٍ لَهُ فِيهَا زَمْزَمَةٌ، فَرَأَتْ أُمُّ ابْنِ صَيَّادٍ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَتَّقِي بِجُذُوعِ النَّخْلِ، فَقَالَتْ لِابْنِ صَيَّادٍ: يَا صَافِ وَهُوَ اسْمُ ابْنِ صَيَّادٍ هَذَا مُحَمَّدٌ، فَثَارَ ابْنُ صَيَّادٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ تَرَكَتْهُ بَيَّنَ "،
سالم بن عبداللہ نے کہا: میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے ہیں: اس (سابقہ واقعے) کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابی بن کعب انصاری رضی اللہ عنہ کھجوروں کے اس باغ میں گئے جس میں ابن صیاد تھا، باغ میں داخل ہونے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھجوروں کے تنوں کی آڑ میں ہونے لگے تاکہ اس سے پہلے کہ ابن صیاد آپ کو دیکھے آپ اس کی کوئی بات سن لیں، وہ بستر پر ایک نرم چادر میں (اسے اوڑھ کر لیٹا) ہوا تھا، اس کے اندر سے اس کی گنگاہٹ کی آواز آ رہی تھی۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کے درختوں کی آڑ لے رہے تھے تو ابن صیاد کی ماں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ لیا اور وہ ابن صیاد سے کہنے لگی: صاف!۔۔۔اور یہ ابن صیاد کا نام تھا۔ یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم (آئے) ہیں۔ ابن صیاد اچھل کر کھڑا ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر وہ اس کو (اسی حالت میں) چھوڑ دیتی تو وہ (اپنا معاملہ) واضح کر دیتا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 7355]