صحيح مسلم حدیث نمبر: 7315
🌍 صحيح مسلم حدیث نمبر: 2913.01
📖 صحيح مسلم باب:54 حدیث نمبر : 81
Sahih Muslim 7315
کتاب #52: فتنے اور علامات قیامت
18: باب لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرِ الرَّجُلِ فَيَتَمَنَّى أَنْ يَكُونَ مَكَانَ الْمَيِّتِ مِنَ الْبَلاَءِ:
باب: قیامت کے قریب فتنوں کی وجہ سے انسان کا قبرستان سے گزرتے ہوئے موت کی تمنا کرنا۔
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، فَقَالَ: يُوشِكُ أَهْلُ الْعِرَاقِ أَنْ لَا يُجْبَى إِلَيْهِمْ قَفِيزٌ وَلَا دِرْهَمٌ، قُلْنَا: مِنْ أَيْنَ ذَاكَ؟ قَالَ: مِنْ قِبَلِ الْعَجَمِ يَمْنَعُونَ ذَاكَ، ثُمَّ قَالَ: يُوشِكُ أَهْلُ الشَّأْمِ أَنْ لَا يُجْبَى إِلَيْهِمْ دِينَارٌ وَلَا مُدْيٌ، قُلْنَا: مِنْ أَيْنَ ذَاكَ؟ قَالَ: مِنْ قِبَلِ الرُّومِ ثُمَّ سَكَتَ هُنَيَّةً، ثُمَّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَكُونُ فِي آخِرِ أُمَّتِي خَلِيفَةٌ يَحْثِي الْمَالَ حَثْيًا لَا يَعُدُّهُ عَدَدًا "، قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي نَضْرَةَ، وَأَبِي الْعَلَاءِ: أَتَرَيَانِ أَنَّهُ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ؟، فَقَالَا: لَا،
اسماعیل بن ابراہیم نے ہمیں جریری سے حدیث بیان کی اور انھوں نے ابو نضرہ ہے روایت کی کہا : ہم حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس تھے کہ انھوں نے کہا : وہ وقت قریب ہے کہ اہل عراق کے پاس کوئی قفیر ( پیمانہ ) آئے گانہ درہم ۔ ہم نے پوچھا کہاں سے؟انھوں نےکہا : عجم سے ۔ وہ اس کو روک لیں گے ۔ پھر کہا : عنقریب اہل شام کے پاس کوئی دینار آئے گا نہ مدی ( پیمانہ ) ہم نے پوچھا : کہاں سے؟انھوں نےکہا : روم کی جانب سے پھر تھوڑی دیر خاموش رہنے کے بعد کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میری امت کے آخر ( کے دور ) میں ایک خلیفہ ہو گا جولپیں بھر بھرکے مال دے گا اور اس کی گنتی نہیں کرے گا ۔ " ( جریری نے ) کہا : میں نے ابو نضرہ اور ابو العلاءسے پوچھا : کیا آپ سمجھتے ہیں کہ یہ عمر بن عبدالعزیزہیں؟تو دونوں نے کہا : نہیں ۔