صحيح مسلم حدیث نمبر: 7243
🌍 صحيح مسلم حدیث نمبر: 2883.02
📖 صحيح مسلم باب:54 حدیث نمبر : 9
Sahih Muslim 7243
کتاب #52: فتنے اور علامات قیامت
2: باب الْخَسْفِ بِالْجَيْشِ الَّذِي يَؤُمُّ الْبَيْتَ:
باب: بیت اللہ کے ڈھانے کا ارادہ کرنے والے لشکر دھنسائے جانے کے بیان میں۔
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ الْعَامِرِيِّ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَفْوَانَ ، عَنْ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " سَيَعُوذُ بِهَذَا الْبَيْتِ يَعْنِي الْكَعْبَةَ قَوْمٌ لَيْسَتْ لَهُمْ مَنَعَةٌ، وَلَا عَدَدٌ وَلَا عُدَّةٌ، يُبْعَثُ إِلَيْهِمْ جَيْشٌ حَتَّى إِذَا كَانُوا بِبَيْدَاءَ مِنَ الْأَرْضِ خُسِفَ بِهِمْ "، قَالَ يُوسُفُ: وَأَهْلُ الشَّأْمِ يَوْمَئِذٍ يَسِيرُونَ إِلَى مَكَّةَ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَفْوَانَ: أَمَا وَاللَّهِ مَا هُوَ بِهَذَا الْجَيْشِ، قَالَ زَيْدٌ: وَحَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ الْعَامِرِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ ، عَنْ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ بِمِثْلِ حَدِيثِ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ، غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ فِيهِ الْجَيْشَ الَّذِي ذَكَرَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَفْوَانَ.
عبیداللہ بن عمرو نے کہا : ہمی زید بن ابی اُنیسہ نے عبدالملک عامری سے خبر دی ، انھوں نے یوسف بن مالک سے روایت کی ، کہا : مجھے عبداللہ بن صفوان نے ام المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" ایک قوم اس گھر ۔ ۔ ۔ یعنی کعبہ ۔ ۔ ۔ میں پناہ لے گی ، ا ن کے پاس نہ اپنا دفاع کرنے کےلیے کوئی ذریعہ ہوگا ، نہ عدوی قوت ہوگی اور نہ سامان جنگ ہی ہوگا ، ان کی طرف ایک لشکر روانہ کیا جائے گا ۔ یہاں تک کہ جب وہ ( لشکر کے ) لوگ زمین کے ایک چٹیل حصے میں ہوں گے تو ان کو ( زمین میں ) دھنسا دیا جائےگا ۔ "" یوسف ( بن مابک ) نے کہا : ان دونوں اہل شام مکہ کی طرف بڑھے آرہے تھے ، تو عبداللہ بن صفوان نے کہا : دیکھو ، اللہ کی قسم!یہ وہ لشکر نہیں ہے ۔ زید ( بن ابی انیسہ ) نے کہا : اور مجھے عبدالملک عامری نے عبدالرحمان بن سابط سے ، انھوں نے حارث بن ابی ربیعہ سے ، انھوں نے ام المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ، یوسف بن مابک کی حدیث کے مانند روایت کی ، مگر انھوں نے اس میں اس لشکر کی بات نہیں کی جس کا عبداللہ بن صفوان نے ذکر کیا ۔