📖 صحيح مسلم • فہرست کتب (Book Index) ↗

صحيح مسلم - حدیث نمبر 6951

Sahih Muslim Hadith 6951 (صَحِيحُ مُسْلِمٍ)
کتاب #48م 📁 کتاب الرقاق (كِتَاب الرِّقَاقِ) ← 🏷️ باب: غار میں پھنسے ہوئے تین آدمیوں کا قصہ اور نیک اعمال کا وسیلہ۔
عربی:
اردو:
صحيح مسلم حدیث نمبر: 6951 🌍 ترقیم فواد عبد الباقی: 2743.2 Sahih Muslim 6951
کتاب #48م: کتاب الرقاق
27: باب قِصَّةِ أَصْحَابِ الْغَارِ الثَّلَاثَةِ ، وَالتَّوَسُّلِ بِصَالِحِ الْأَعْمَالِ
🏷️ باب: غار میں پھنسے ہوئے تین آدمیوں کا قصہ اور نیک اعمال کا وسیلہ۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلٍ التَّمِيمِيُّ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بِهْرَامَ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ ابْنُ سَهْلٍ: حَدَّثَنَا وقَالَ الْآخَرَانِ: أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " انْطَلَقَ ثَلَاثَةُ رَهْطٍ مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ حَتَّى آوَاهُمُ الْمَبِيتُ إِلَى غَارٍ، وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ غَيْرَ، أَنَّهُ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ: اللَّهُمَّ كَانَ لِي أَبَوَانِ شَيْخَانِ كَبِيرَانِ فَكُنْتُ لَا أَغْبِقُ قَبْلَهُمَا أَهْلًا وَلَا مَالًا، وَقَالَ: فَامْتَنَعَتْ مِنِّي حَتَّى أَلَمَّتْ بِهَا سَنَةٌ مِنَ السِّنِينَ، فَجَاءَتْنِي فَأَعْطَيْتُهَا عِشْرِينَ وَمِائَةَ دِينَارٍ، وَقَالَ: فَثَمَّرْتُ أَجْرَهُ حَتَّى كَثُرَتْ مِنْهُ الْأَمْوَالُ، فَارْتَعَجَتْ، وَقَالَ: فَخَرَجُوا مِنْ الْغَارِ يَمْشُونَ.
سالم بن عبداللہ (بن عمر) نے مجھے خبر دی کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”تم سے پہلے لوگوں میں سے تین شخص (کسی غرض سے) روانہ ہوئے، حتیٰ کہ رات گزارنے کی ضرورت انہیں ایک غار کی پناہ گاہ میں لے آئی۔“ پھر انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نافع کی روایت کے مطابق واقعہ بیان کیا مگر کہا: ”اے اللہ! میرے انتہائی بوڑھے والدین تھے، میں رات کے وقت ان دونوں سے پہلے نہ گھر والوں کو دودھ پلاتا تھا، نہ مال کو (اپنی ملکیت کے غلاموں یا مویشیوں کے ان بچوں کو جن کی اپنی مائیں نہ تھیں) دودھ پلاتا تھا۔“ اور (یہ بھی) کہا: ”(میری عم زاد) مجھ سے دور رہی یہاں تک کہ ایک قحط سالی کا شکار ہو گئی، وہ میرے پاس آئی تو میں نے اسے (سو کے بجائے جو اس نے مانگے تھے) ایک سو بیس دینار دیے۔“ اور (تیسرے شخص کے واقعے میں) اس نے کہا: ”میں نے اس کی اجرت کو (کاشتکاری اور تجارت کے ذریعے) خوب بار آور بنایا، یہاں تک کہ ایسا کرنے سے مال مویشی بہت بڑھ گئے اور پھیل گئے۔“ اور آخر میں کہا: ”تو وہ چلتے ہوئے غار سے باہر آ گئے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 6951]
صحيح مسلم • حدیث #6951
6949 6950 6951 6952 6953

📖 اسی باب کی مزید احادیث (Related Hadiths)

#6949 حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْمُسَيَّبِيُّ ، حَدَّثَنِي أَنَسٌ يَعْنِي ابْنَ عِيَاضٍ أَبَا ...
انس بن عیاض ابوضمرہ نے موسیٰ بن عقبہ سے، انہوں نے نافع سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے ر...
#6950 وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، ...
موسیٰ بن عقبہ، عبیداللہ، فضیل، رقبہ بن مسقلہ اور صالح بن کیسان سب نے نافع سے، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اور انہ...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ