صحيح مسلم حدیث نمبر: 6915
🌍 صحيح مسلم حدیث نمبر: 2727.01
📖 صحيح مسلم باب:48 حدیث نمبر : 108
Sahih Muslim 6915
کتاب #48: ذکر الہی، دعا، توبہ، اور استغفار
19: باب التَّسْبِيحِ أَوَّلَ النَّهَارِ وَعِنْدَ النَّوْمِ:
باب: سوتے وقت اور دن کے آغاز میں تسبیح کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْحَكَمِ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي لَيْلَى ، حَدَّثَنَا عَلِيٌّ ، أَنَّ فَاطِمَةَ اشْتَكَتْ مَا تَلْقَى مِنَ الرَّحَى فِي يَدِهَا، وَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْيٌ، فَانْطَلَقَتْ فَلَمْ تَجِدْهُ وَلَقِيَتْ عَائِشَةَ، فَأَخْبَرَتْهَا فَلَمَّا جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ عَائِشَةُ بِمَجِيءِ فَاطِمَةَ إِلَيْهَا، فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْنَا وَقَدْ أَخَذْنَا مَضَاجِعَنَا فَذَهَبْنَا نَقُومُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَلَى مَكَانِكُمَا، فَقَعَدَ بَيْنَنَا حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَ قَدَمِهِ عَلَى صَدْرِي، ثُمَّ قَالَ: " أَلَا أُعَلِّمُكُمَا خَيْرًا مِمَّا سَأَلْتُمَا إِذَا أَخَذْتُمَا مَضَاجِعَكُمَا أَنْ تُكَبِّرَا اللَّهَ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ، وَتُسَبِّحَاهُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَتَحْمَدَاهُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، فَهْوَ خَيْرٌ لَكُمَا مِنْ خَادِمٍ "،
محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے حکم سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے ابن ابی لیلی سے سنا ، انہوں نے کہا : ہمیں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو چکی پیسنے سے جو زحمت برداشت کرنی پڑی اس کی وجہ سے ان کے ہاتھوں میں تکلیف ہوئی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ قیدی آئے ۔ آپ کی طرف گئیں ، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ( گھر میں ) نہ پایا ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ملیں اور انہیں ( اپنی تکلیف کے بارے میں ) بتایا ۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ کو ان ( حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا ) کے اپنے پاس آنے کے بارے میں بتایا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہان تشریف لائے ۔ ۔ اس وقت ہم اپنے اپنے بستروں میں جا چکے تھے ، ہم کھڑے ہونے لگے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " دونوں اپنی اپنی جگہ پر رہو ۔ " آپ ہم دونوں کے درمیان ( والی جگہ پر ) بیٹھ گئے حتی کہ میں نے آپ کے قدم مبارک کی ٹھڈک اپنے سینے پر محسوس کی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کیا تم دونوں نے مجھ سے مانگا ہے میں تمہیں اس سے بہتر بات نہ سکھلاؤں؟ جب تم دونوں اپنے اپنے بستروں میں جاؤ تو چونتیس بار اللہ اکبر کہو ، تینتیس بار سبحان اللہ کہو اور تینتیس بار الحمدللہ کہو ، یہ ( عمل ) تم دونوں کے لیے ایک خادم ( مل جانے ) سے بہتر ہے ۔