صحيح مسلم حدیث نمبر: 6862
🌍 صحيح مسلم حدیث نمبر: 2704.01
📖 صحيح مسلم باب:48 حدیث نمبر : 56
Sahih Muslim 6862
کتاب #48: ذکر الہی، دعا، توبہ، اور استغفار
13: باب اسْتِحُبَابِ خَفْضِ الصَّوْتِ بِالذِّكْرِ إِلَّا فِي الْمَوَاضِعِ الَّتِي وَرَدَ الشَّرْعُ بِرَفْعِهِ فِيهَا كَالتَّلْبِيَةِ وَغَيْرِهَا وَ اسْتِحُبَابِ الْإِكْثَارِ مِنْ قَوْلِ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ
باب: آہستہ سے ذکر کرنا افضل ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَجْهَرُونَ بِالتَّكْبِيرِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيُّهَا النَّاسُ ارْبَعُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ إِنَّكُمْ لَيْسَ تَدْعُونَ أَصَمَّ، وَلَا غَائِبًا إِنَّكُمْ تَدْعُونَ سَمِيعًا قَرِيبًا وَهُوَ مَعَكُمْ، قَالَ: وَأَنَا خَلْفَهُ وَأَنَا أَقُولُ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ "، فَقَالَ: يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ: " أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَنْزٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ؟ "، فَقُلْتُ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " قُلْ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ "،
محمد بن فضیل اور ابومعاویہ نے عاصم سے ، انہوں نے ابوعثمان سے اور انہوں نے حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : ایک سفر میں ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ لوگ بلند آواز کے ساتھ اللہ اکبر کہنے لگے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اے لوگو! اپنی جانوں پر نرمی کرو ، تم نہ کسی بہرے کو پکار رہے ہو ، نہ غائب کو ، تم اس کو پکار رہے ہو جو ہر وقت خوب سننے والا ہے ، قریب ہے اور تمہارے ساتھ ہے ۔ " اس وقت میں آپ کے پیچھے تھا اور یہ کہہ رہا تھا : " لا حول ولا قوة الا بالله " " گناہوں سے بچنے اور نیکی کی قوت صرف اور صرف اللہ سے ملتی ہے ۔ " تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " عبدالہ بن قیس! کیا میں تمہیں جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانے کا پتہ نہ بتاؤں؟ " میں نے کہا : کیوں نہیں ، اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا : " لا حول ولا قوة الا بالله " کہا کرو ۔