صحيح مسلم حدیث نمبر: 6775
🌍 صحيح مسلم حدیث نمبر: 2665
📖 صحيح مسلم باب:47 حدیث نمبر : 1
Sahih Muslim 6775
کتاب #47: علم کا بیان
1: باب النَّهْيِ عَنِ اتِّبَاعِ مُتَشَابِهِ الْقُرْآنِ وَالتَّحْذِيرِ مِنْ مُتَّبِعِيهِ وَالنَّهْيِ عَنْ الاِخْتِلاَفِ فِي الْقُرْآنِ:
باب: قرآن میں جو متشابہ آیتیں ہیں ان میں کھوج کرنا منع ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التُّسْتَرِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: تَلَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ مِنْهُ آيَاتٌ مُحْكَمَاتٌ هُنَّ أُمُّ الْكِتَابِ وَأُخَرُ مُتَشَابِهَاتٌ فَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَاءَ الْفِتْنَةِ وَابْتِغَاءَ تَأْوِيلِهِ وَمَا يَعْلَمُ تَأْوِيلَهُ إِلا اللَّهُ وَالرَّاسِخُونَ فِي الْعِلْمِ يَقُولُونَ آمَنَّا بِهِ كُلٌّ مِنْ عِنْدِ رَبِّنَا وَمَا يَذَّكَّرُ إِلا أُولُو الأَلْبَابِ سورة آل عمران آية 7، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا رَأَيْتُمُ الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ، فَأُولَئِكَ الَّذِينَ سَمَّى اللَّهُ فَاحْذَرُوهُمْ ".
قاسم بن محمد نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( یہ آیات ) تلاوت فرمائیں : " وہی ہے جس نے آپ پر کتاب نازل فرمائی ، اس میں سے محکم ( معنی میں واضح ) آیتیں ہیں ، وہی اصل کتاب ہیں اور دوسری متشابہ آیات ہیں ، پھر وہ لوگ جن کے دلوں میں کجی ہے ، وہ فتنے کی تلاش میں ان آیتوں کے پیچھے پڑے رہتے ہیں جو ان ( آیات قرآنی ) میں سے متشابہ ہیں ۔ ان ( متشابہ آیات ) کا حقیقی معنی اللہ اور ان لوگوں کے علاوہ اور کوئی نہیں جانتا جو علم میں راسخ ہیں ۔ وہ ( یہی ) کہتے ہیں : ہم ان ( آیات ) پر ایمان لائے ، سب ( آیتیں ) ہمارے رب کی طرف سے ہیں اور دانائی رکھنے والوں کے سوا کوئی ( ان سے ) نصیحت حاصل نہیں کرتا ۔ " ( حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ) کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تم ایسے لوگوں کو دیکھو جو قرآن میں سے متشابہ ( آیات ) کے پیچھے پڑتے ہیں ، تو یہی لوگ ہیں جن کا اللہ نے ( سابقہ آیات میں ) ذکر کیا ہے ، لہذا ان سے بچ کر رہو ۔